تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 18
١٨ حضرت اماں جی کو جس پانی سے غسل دیا گیا اس میں آپ زمزم شامل تھا اور غلاف کعبہ کے بابرکت کپڑے سے آپ کا کفن تیار کیا گیا۔ساڑھے پانچ بجے شام آپ کا جنازہ تابوت میں رکھ کر باہر لایا گیا اس وقت تک بیرونی مقامات مثلاً سرگودھا، لائل پور (فیصل آباد، جھنگ ،شیخوپورہ ، اور لاہور کی جماعتوں کے احباب خاصی تعداد میں پہنچ چکے تھے۔پونے چھ بجے شام مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ریلوے لائن کے سامنے کھلے میدان میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں ہزار ہا افراد نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے بعد تابوت موصیبوں کے قبرستان میں لے جانے کے لئے اُٹھایا گیا۔جس چارپائی پر تابوت رکھا گیا اس کے ساتھ لمبے بانس " باندھے گئے تھے۔سو اچھے بجے جنازہ قبرستان میں پہنچا۔تابوت کو قبر میں اتارنے میں جن بزرگوں نے حصہ لیا ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب کے علاوہ ربوہ میں مقیم لبعض بیرونی ممالک مثلاً انڈونیشیا، مشرقی افریقہ اور ٹرینیڈاڈ کے احمدی طلباء بھی شامل تھے۔پونے سات بجے شام آپ کے جسد خاکی کو حضرت مصلح موعود کی ہدایت کے مطابق بیگم صاحبہ حضرت سید محمد اسحق صاحب کے مزار مبارک سے متصل جگہ پر سپر د خاک کر دیا گیا اور مکرم مولا نا جلال الدین صاحب شمس ہی نے آخری اجتماعی دعا کرائی۔لہ حالات و شمائل ( حضرت نان بی لدھیانہ میں ۱۹ و ۵ - ۱۸۴۴ء) کے دوران پیدا اماں ھ (۷۵- ہوئیں۔آپ کے والد ماجد حضرت صوفی احمد جان صاحب تھے جنہوں نے براہین احمدیہ پر شاندار تبصرہ شائع فرمایا۔سیدنا حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ سجادہ نشینوں میں سب سے پہلے انہوں نے مجھے مانائیکے ازالہ اوہام صفحہ ۷۹۱ تا۷۹۳ میں حضور نے نہایت قابل رشک له الفضل ۹ اگست ۹/۶۱۹۵۵ر ظهور ۱۳۳۴ انش صدا : ے حضرت پیر افتخار احمد صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کی تاریخ پیدائش " والدہ عبد السلام" ہے یعینی (رساله مصباح ربوہ ستمبر ۲۱۹۵۵ صت ) ه افتخار الحق منا از حضرت پیر افتخار احمد صاحب ناشر حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد تاجر کتب - 1 مین بازار گوالمنڈی لاہور - وفات ، ار ربیع الاول ۱۳۰۳ ھ لدھیانہ گور غریباں“ میں دفن کئے گئے مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد اول و دوم :