تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 280 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 280

۲۸۰ طعا اس سال جماعت احمدیہ کے خلاف جس رنگ میں بے بنیاد جاعت امری کے نام بے بنیاد پراپیگن اور جھوٹا پراپیگنڈہ کیا گیا اور مفروضہ خبریں شائع کی گئیں اس کا ایک نمونہ ریکارڈ کرنا ضروری ہے۔اخبارہ تعمیر" راولپنڈی نے لکھا :- لاہور - ۱۸؍ مارچ (نمائندہ خصوصی) معلوم ہوا ہے کہ جماعت احمدیہ نے اپنا ہیڈ کوارٹر ربوہ سے انڈونیشیا منتقل کر دینے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔مزید معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے بیٹے مرزا ناصر احد تھوڑا ہی عرصہ ہوا۔انڈونیشیا کا دورہ کرکے لوٹے ہیں۔یاد رہے کہ نیام پاکستان سے پہلے جماعت احمدیہ کا ہیڈ کوارٹم قادیان د مشرقی پنجاب) میں تھا جہاں اب بھی اس جماعت کے تین سو تیرہ ارکان مقیم ہیں۔ہمارے نمائندہ خصوصی تنظیم لاہور مک ممتاز کو جماعت احمدیہ کے قریبی حلقوں نے بنایا ہے کہ جن دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت کا پاکستان میں زور تھا اور اس قسم کا پروپیگنڈا زوروں پر کیا جار ہا تھا کہ جملہ احمدیوں کو ایک اقلیتی فرقہ قرار دے دیا جائے اور چوہدری ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیا جائے۔انہی دنوں اس امر پر غور و خوض شروع ہو گیا تھا کہ جماعت کا ہیڈ کوارٹر ربوہ سے منتقل کر دیا جائے چنانچہ مارشل لاء اور اُس کے بعد چوہدری ظفراللہ خان کے استعفوں اور چوہدری صاحب کے بین الا قوامی عدالت میں پہلے جانے کی خبروں کے پیش نظر ہیڈ کوارٹر کی تبدیلی کے منصوبہ پر سنجیدگی سے غور شروع ہو گیا اور جس روز چوہدری صاحب پاکستان سے ہیگ چلے گئے ہمارے لئے آپ کوئی چارہ نہ رہا کہ ہم ربوہ سے باہر چلے جائیں۔اس حلقے نے بتایا کہ چوہدری ظفر اللہ کے بحیثیت وزیر خارجہ پاکستان میں رہنے سے اگرچہ تبلیغی لحاظ سے جماعت احمدیہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں تھا۔مگر اس قسم کی ڈھارس سی تھی کہ حکومت میں ہمارا بھی نمائندہ ہے۔اب اگر چہ حکومت کی طرف سے ہمارے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی جار ہی لیکن اپنے تبلیغی ذرائع کو محدود اور ایک عدم تعاون کے نظریہ کو پاتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ ربوہ کو چھوڑ دیں جس کیلئے انڈونیشیا کو منتخب کر لیا گیا ہے۔جہاں بیٹھ کر ہم اپنا عالمی مشن چلائیں گے۔اس حلقے نے ابھی یہ انکشاف نہیں کیا کہ کی ان کا ہیڈ کوارٹر منتقل ہو جائے گا۔به روزنامه وزنامہ " تعمیر کے راولپنڈی مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۵۵ و مادر