تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 277
اور اس کو بھر کر بغیر کسی دقت کے لاہور جا سکتا تھا۔اور کسی شخص کے مستحق یا غیر مستحق ہونے کے متعلق سوال نہ کیا گیا۔چنانچہ اس موقع پر وہ لوگ بھی مہند دستان سے پاکستان جا کہ لاہور کی سیر کہ آئے جو پولیس کے رجسٹر نمبر دس میں بطور بد معاش درج تھے یا جن کو کرکٹ سے کوئی پچسپی نہ تھی اور جو صرف اپنے دوستوں سے ملنے کے لئے وہاں گئے۔مگر یہ واقعہ بے حد دلچسپ ہے کہ قادیان کے ذیل کے معزز اصحاب کو (جو احمدی جماعت میں انتہائی عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں اور جو مذہبی اعتبار سے بہت ہی بلند ہیں) کرکٹ کا میچ دیکھنے کے لئے بھی عارضی پر مٹ نہ دیا گیا۔حضرت مولوی عبدالرحمنی امیر جماعت احمدیہ قادیان - ۲ حضرت صاحبزادہ مرزا دوسیم احمد رحضرت امام جماعت احمدیہ کے صاحبزادہ )۔۳۔ملک صلاح الدین ایم اے ایڈیٹر اخبار "بدر" قادیان۔گویا کہ جس صورت میں دس نمبری بد معاشوں کو بھی کرکٹ میچ دیکھنے کا عارضی پہ سمٹ دیا گیا۔ان تین نیک دل اور بلند مذہبی بزرگوں کو حکومت نے گیارہ نمبر یے سمجھ کہ پرمٹ دینے سے انکار کر دیا۔اور حکومت کی کتابوں میں دس نمبر کے بعد ایک گیارہ نمبر رجسٹر بھی موجود ہے۔جس میں کہ صرف مذہبی لوگوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔اور پرمٹ دینے والے افسروں کے خیال میں یہ گیارہ نمبر بیٹے دس نمبریوں سے بھی بُرے اور خطر ناک بدمعاش ہیں قادیات کی احمدی جماعت کے نمبروں کے متعلق ہمارا پرانا تجربہ یہ ہے کہ یہ لوگ اخلاق اور کیریکٹر کے لحاظ سے بہت بلند ہیں۔اور ایڈیٹر ریاست نے آج تک کسی احمدی کو بھی نہیں دیکھا جو کہ دیانت دار نہ ہو۔بلکہ یہ کہنا چاہئیے کہ اگر دوسرے نیک لوگ گناہ کرتے ہوئے خدا سے ڈرتے ہیں تو احمدی گناہ کرتے ہوئے خدا سے اس طرح ہی بدکتے ہیں جیسے گھوڑا صرف سایہ سے بلکتا ہے۔یعنی یہ گناہ کے خیال سے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔احمدیوں کی اس پوزیشن میں ان کو قادیان سے لاہور جانے کا عارضی پرمٹ نہ دیا جاتا ایسا واقعہ نہیں جس کو نظر انداز کیا جا سکے ہم چاہتے ہیں کہ مرکزی گورنمنٹ کا ایکسٹرنل ڈیپارٹمنٹ ان افسروں سے باز پرس کرے جو افسران بزرگوں کو پرمیٹ نہ دینے کی حماقت کے ذمہ دار ہیں ایک روشن خیال غیر احدی صحافی جو مفت روزه نگهبان ایک غیر احمدی صحافی کے تاثرات کراچی کے مدیر تھے، ۲۰ جنوری اور کو مسجد حمدیہ لم ریاست ۱۴ فروری ۱۹۵۵ء بحواله روزنامه الفضل ۲۲ فروری ۱۹۵۵ء مث -