تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 274
۲۷۴ ۲۷ دسمبر دار کو حضرت ۵ مقبرہ میں نواب محمد الدین صا کی تدفین بہشتی مقبر میں لا اله الا الان اصل الموجودة خلیفة المسیح نے جلسہ گاہ میں نماز ظہر وعصر پڑھانے کے بعد سلسلہ احمدیہ کے ایک نہایت مخلص بزرگ حضرت نواب محمد الدین حمایت کی نماز جنازہ بھی پڑھائی حضرت نواب صاحب مرحوم ۱۹۳۹ ء میں فوت ہوئے تھے۔اور آپ کو آپ کے آبائی گاؤں تلونڈی عنایت خان میں ہی امانتاً دفن کیا گیا تھا۔جہاں سے آپ کا تابوت مقبرہ بہشتی ربوہ میں دفن کرنے کے لئے لایا گیا۔چنانچہ جلسہ سالانہ پر تشریف لانے والے ہزار ہا احمدی احباب نے حضور نہ کی اقتدا میں آپ کا جنازہ پڑھا اور بلندی درجات کے لئے دعائیں کیں بعد ازاں آپ کا تابوت مقبرہ بہشتی ہیں سپرد خاک کیا گیا۔حضور نے نماز ظہر و عصر سے قبل محترم نواب صاحب مرحوم کا جنازہ پڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا : نواب محمد الدین صاحب سلسلہ کے ساتھ نہایت گہرا اخلاص رکھنے والے انسان تھے۔ان کے بیٹے چوہدری محمد شریف صاحب (یونسشگری جماعت کے امیر ہیں) بھی بڑے مخلص احمدی ہیں۔نواب صاحب مرحوم اس لحاظ سے بھی سلسلہ کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتے ہیں کہ ربوہ کی نہ میں خرید تے یہاں پر کانوں کی اجازت لینے اور اس طرح ربوہ بہانے کا سارا کام آپ نے ہی کیا تھا۔اس لئے نواب صاحب کا ہم پر حق ہے کہ ہم ربوہ کی ہر گلی اور ہر عمارت کو دیکھ کر ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی ان کے مدارج کو بلند فرمائے۔اور ان کی اولاد میں بھی ان جیسا بلکہ اس سے بڑھ کر سلسلہ کے لئے اخلاص پیدا کرے ، حضرت نواب صاحب کے ساتھ مولوی غلام رسول صاحب آف بدوملہی کا جنازہ بھی پڑھایا گیا مولوی صاحب مرحوم اصحاب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام میں سے تھے اور مربی سلسلہ مولوی چراغ الدین صاحب کے خسر تھے۔آپ ۱۹۵۳ء میں فوت ہوگئے۔د بقیه حاشیه صفحه گذشته نومبر شهداد منت تامه مضمون چوہدری مظفرالدین ما بنگالی ، الفصل یکم نومبر ۱۹ نومبر اور مضمون جناب مجیب الرحمن صاحب نیا کی ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان )۔که روزنامه الفضل ربوه ۴ جنوری 2ء ۳ - له ايضا۔