تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 15
۱۵ الفاظ کے بعد (جو ہر احمدی کے دلی جذبات کی ترجمانی کر رہے تھے ) آپ نے حضرت مصلح موعود کے سفر کے بابرکت ہونے اور حضور کی کامل و عاجل شفایابی کے لئے دُعا کی تحریک کی اور اس سلسلہ میں جماعت کو مالی قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی اور اجتماعی دُعا کے ساتھ شوری کے اختتام کا اعلان کیا۔تھا کہ :۔بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت مصلح موعود نے مجلس مشاورت ۱۹۳۰ میں یہ اعلان فرمایا اسلامی اصول شریعیت کے مطابق کسی امر کے فیصلہ کا حق خلیفہ کو ہی ہے دوسروں کا کام مشورہ دینا ہے۔پس مجلس مشاورت کوئی فیصلہ نہیں کرتی بلکہ مشورہ دیتی ہے فیصلہ خلیفہ کرتا ہے" اس ارشاد کی تعمیل میں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے مجلس شوری کی سفارشات محفور کی خدمت میں بغرض منظوری پیش کرنے کے لئے عرض کیا تو حضور نے فرمایا ان سب امور کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں جس کے متعلق ناظر صا کہ میرے فیصلہ کے لئے پیش کرنا ضروری ہے اسے پیش کر دیں۔جہاں تک میزانیہ کا تعلق تھا حضور اُس کی منظوری پہلے ہی عطا فرما چکے تھے۔لے مشرقی پنجاب میں صداقت احمدیت کا اورانا ان کے ایمان کے بعد سعد دوا ہے ہجرت احمدیت کی تائید میں قادیان اور اس کے گرد و نواح ایک نشان میں ظاہر ہوئے جن کی وجہ سے مخالفانہ ماحول بہت حد تک سازگار فضا میں تبدیل ہوا اور درویشان قادیان کی مشکلات میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔اس سلسلہ میں ۱۹۵۵ء کے وسط میں ایک ایمان افروز نشان ظاہر ہوا جس سے پتہ چلتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس طرح احمدیت کی تائید و نصرت کے لئے جوش زن ہے۔ذیل میں اِس نشان کی تفصیل مولوی برکات احمد صاحب راجیکی بی۔اسے ناظر بیت المال قادیان لے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ر پورٹ مجلس مشاورت سے ۱۹۵۵