تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 254
۲۵۴ حضرت مولوی نذیر احمد علی صاحب مبلغ افریقہ - -۴- حضرت صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی سابق مبلغ امریکیہ - ار حضرت مولوی عبد المغنی خانصاحب حضرت مولوی صاحب قوم کے پٹھان تھے۔آپ کی ولادت اپنے آبائی وطن قائم گنج ضلع فرخ آباد (صوبہ یو پی بھارت) میں ہوئی۔صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ کے مطابق آپ کی تاریخ پیدائش اکتوبر دار ہے۔آپ کے والد کا اسم گرامی نامدار خان اور دادا کا نام کا مدار خان تھا۔نامدار خان ریاست حیدر آباد کے پولیس فورس میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر فائز تھے مولوی صاحب کی پرائمری تک تعلیم قائم گنج کے مقامی سکول میں ہوئی۔اس کے بعد اٹاوہ چلے گئے جہاں بورڈنگ ہاؤس میں رہائش اختیار کرکے ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔کالج کی تعلیم ہی۔انیس سی تک علی گڑھ میں حاصل کی۔آپ کا واقعہ قبول احمدیت بہت ایمان افروز ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ "جب میں اٹاوہ میں بورڈنگ ہاؤس میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے عبادت کی خاص الخاص لذت سے ہوناس کیا۔ان ایام میں اللہ تعالی رات کی تنہائی میں ایسے میٹھے سبق پڑھاتا کہ ان کی لذت میرے دل اور روج کے ایک ایک گوشے میں سما جاتی۔فرمایا یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک جاری رہا۔لیکن پھر اچانک ایک دن بند ہو گیا اور اس کے بعد باوجود میری انتہائی بے تابی اور بے قراری اور گریہ وزاری کے پھر جاری نہ ہوا۔جب میری بے قراری انتہا کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ کچھ عرصہ بعد تم ایک شخص سے ملو گے اب اس کے ذریعہ ہی یہ سلسلہ تمہارے لئے دوبارہ جاری ہوگا۔" مندرجہ باں واقعہ اٹا وہ کا ہے جبکہ آپ ابھی ہائی سکول کے طالب علم تھے۔چند سال بعد جب آپ علیگڑھ کالج میں داخل ہوئے تو وہاں طلباء کی مجلسوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کا ذکر مخالفانہ رہنگ میں آپ کے کانوں میں پڑنے لگا۔ایک روز کسی ایسی ہی مجلس میں کسی شخص نے حضرت اقدس علیہ السلام کے متعلق کہا کہ مرزا صاحب تو رنعوذ بالله ، حضرت نبی اکرم صلی اله علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔فرمایا میں نے جب یہ سنا تو میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ عیہ وتم کی محبت کی وجہ سے چاہا کہ اس شخص کے خلاف جس کی طرف یہ گستاخی منسوب کی جار ہی ہے۔ریعنی حضرت