تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 252
۲۵۲ پر طارم ہو گئے۔آپ نے ان میں قادیان جا کہ حضرت مسیح پاک کے دست مبارک پر بیعت کی۔قادیان سے واپس گاؤں پہنچ کر آپ نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کو تبلیغ کرنا شروع کی۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے تھوڑے عرصہ میں کئی افراد خاندان احمدیت میں داخل ہو گئے۔آپ کی تبلیغ سے ہی آپ کے والدین نے احمدیت قبول کی اہمیت نے آپ کے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کر دی تھی۔با وجود جوانی کی عمر کے آپ نے ایسا نیک نمونہ ظاہر کیا کہ اپنے تو اپنے ہی تھے بیگانے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ان دنوں آپ پٹواری تھے لیکن احمدیت قبول کرتے ہی آپ نے اس ملازمت سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔کیونکہ آپ یہ سمجھتے تھے کہ اس ملازمت میں حلال رزق کی کمائی دشوار ہے۔خدا تعالیٰ نے اس قربانی کا بدلہ یوں دیا کہ عمر بھیر آپ کو کسی ملازمت کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی اور نہایت عزت اور آرام سے زندگی بسر کی۔فالحمد لله على ذالك۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قبيله والد صاحب نے سلسلہ کی طرف سے ہر تحریک پر عمل کرکے نہ صرف السابقون الاولون کا مقام حاصل کیا۔بلکہ مقامی امیر ہونے کی حیثیت دوسروں کے لئے بھی اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔چنانچہ کھاریاں کی جماعت میں آپ نے سب سے پہلے وصیت کی۔اور آپ کے اخلاص ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے خاندان میں اکثر افراد موصی ہیں۔تحریک جدید میں آپ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور تا دم آخر آپ باقاعدگی کے ساتھے چندہ تحریک جدید ادا کرتے رہے۔جاعت احمدیہ کھاریاں کے امیر ہونے کی حیثیت سے آپ نے قریباً تیس سال تک سلسلہ کی خدمت کی۔امارت کے علاوہ آپ میونسپل کمیٹی کے قریبا پندرہ سال تک پریذیڈنٹ رہے ہیں۔اس فریضہ کو بھی آپ نے نہایت دیانت داری اور محمدگی سے نیا ہا۔آپ کی صفات میں سے آپ کی سادگی بہت نمایاں تھی۔با وجو دیکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی مالی حالت بہت اچھی تھی اور دینی و دنیاوی لحاظ سے آپ کو اچھا مقام حاصل تھا۔لیکن ظاہر داری اور تکلف آپ کے اندر نام کو نہ تھا۔انتہائی سادگی سے آپ نے اپنی زندگی بسر کی۔آپ کی دیانت داری کے نہ صرف اپنے بلکہ بیگانے بھی معترف تھے۔آپ کے پاس لوگ اکثر اپنے زیورات اور نقدی وغیرہ بطور امانت رکھ جاتے۔