تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 248 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 248

۲۴۸ عقیدت تھی اور ان کے دل میں حضرت صاحب کا خاص اکرام تھا اور حضور کو بھی ان پر بہت اعتماد تھا۔جب ہوشیار پور مصلح موعود والا جلسہ ضروری ۱۹۳۷ء میں ہوا تھا تو اس میں اور بعض بعد کے جلسوں میں بھی درد صاحب نے ہی مصلح موعود والی پیش گوئی حاضرین کو سنائی تھی۔اس موقع پر درد صاحب کو اس وجہ سے چنا گیا تھا کہ ان کے پھوپھا صاحب یعنی حضرت منشی عبداللہ صاحب مرحوم ان ایام میں حضرت میں موجود علیہ اسلام کے ساتھ تھے۔جب حضور نے ہوشیار پور میں چلہ کشی کی اور انہی ایام میں مصلح موعود والے الہامات ہوئے۔حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے حضرت مصلح موعود نے ور و کبر شاہ کے خطبہ جمیعہ میں آپ کی شاندار علمی ، تبلیغی اور سیاسی خدمات حضرت مولانا عبد الرحم درد کا ذکر خیر پر روشنی ڈالتے ہوے ارشاد فرمایا کہ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت پرسوں درد صاحب اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے قوت ہو گئے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک نے فوت ہوتا ہے۔درد حصہ تو اتنے بڑے پایہ کے آدمی نہیں تھے۔ان سے بڑے بڑے پانیہ کے لوگ بھی وفات پا گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ، آپ کے چاروں خلفاء وفات پا گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام وفات پاگئے حضرت خلیفہ المسیح الا قول رضی اللہ عنہ وفات پا گئے۔پھر حضرت مسیح موجود علیہ السلام کے پرانے صحابہ ایک ایک کر کے وفات پاگئے خود ان کے والد ماسٹر تا در بخش صاحب اور ان کے خسر میاں عبداللہ صاحب سنوری جو پرانے صحابہ میں سے تھے ، فوت ہو گئے۔پس فوت تو سب نے ہوتا ہے۔لیکن یہ طبیعی بات ہے کہ پرانا تعلق ہونے کی وجہ سے صدمہ زیادہ ہوتا ہے۔۹۱ ایڈ سے درد صاحب کا میرے ساتھ تعلق تھا۔۱۹۱۳ء میں وہ قادیان سلسلہ کی خدمت کے لئے آ گئے تھے۔۱۹۲۲ء میں وہ انگلستان مبلغ بن کر گئے تھے۔پھر دوبارہ ۱۹۳۳ء میں انگلستان گئے۔اور قریباً 4 سال وہاں رہے۔بغرض وہ دو دفعہ مبلغ بن کر انگلستان گئے۔پہلی دفعہ ۱۲ جولائی ۹۲۴ار کو قادیان سے روانہ ہوئے اور ۲۲ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو واپس آئے۔اور دوسری دفعہ ۲ فروری ۱۹۳۳ ء کو قادریان سے روانہ ہوئے۔اور 19 نومبر ۱۹۳۷ ء کو واپس آئے۔قادیان میں وہ سالہا سال تک صدر انجین احمدیہ کے روزنامه " الفضل ۴ در دسمبر ۱۹۵۵ ه ما رفت۔