تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 246
* میں آگئے اور جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۳۱-۱۹۲۰ء میں نظارتیں قائم کیں تو ابتدائی ناظروں میں سے درد صاحب بھی ایک صیغہ کے ناظر مقرر ہوئے اور اس وقت سے لے مکہ آج تک جو پینتیس سال کا عرصہ بنتا ہے۔درد صاحب نے اس وفاداری اور جاں نثاری کے ساتھ اس خدمت کو نبھایا جو انہی کا حقہ تھی۔کبھی اپنی تنخواہ میں ترقی کا مطالبہ نہیں کیا۔کبھی کوئی حق نہیں مانگا۔بلکہ جو کچھ بھی سلسلہ کی طرف سے ملا اسے کامل رضا اور پورے صبر و شکر کے ساتھ قبول کیا۔مجھے یاد ہے کہ جب ہم شروع میں خدا کے ساتھ عہد باندھ کر سلسلہ کی خدمت میں آئے تو میری ہی تجویز پر ہم دونوں نے یہ عہد کیا تھا کہ خدا کی توفیق سے ہم ہمیشہ سلسلہ کی خدمت میں زندگی گزاریں گے۔اور کبھی کسی معاوضہ یا ترقی یا حق کا مطالبہ نہیں کریں گے اور میرے لئے انتہائی خوشی اور درد صاحب کے خاندان کے لئے انتہائی فخر کا مقام ہے کہ درد صاحب نے اس عہد کو کامل وفاداری کے ساتھ نبھایا اور منھجر مَنْ قَضَا نَحْبَہ کے مقام پر فائز ہو گئےاور میرا انجام خدا کو معلوم ہے۔گو میں بھی اپنی کمزوریوں کے باوجود خدا کی رحمت کا امیدوار ہوں۔درد صاحب کا خاص وصف یہ تھا جس میں مجھے بھی اکثر اوقات ان پر رشک آنا تھا کہ اگر کبھی حضرت صاحب کی طرف سے یا انجمن وغیرہ کی طرف سے ان کی کسی بات پر گرفت ہوتی تھی۔(اور گرفت سے کون انسان بالا ہے ) تو وہ اسے انتہائی صبر اور ضبط کے ساتھ برداشت کرتے تھے اور اپنی بریت کا معاملہ بھی صرف خدا پر چھوڑتے تھے۔غائبا ء میں درد صاحب کو لندن مشن میں پہلی دفعہ مبلغ بنا کر بھجوایا گیا۔جہاں انہوں نے ۱۹۳۰ء تک کام کیا۔اور اسی زمانہ میں لندن مسجد کی بنیاد رکھی گئی اور اسی زمانہ میں وہ تعمیر ہوئی۔اس کے بعد وہ دوبارہ ۱۹۳۳ ء میں لندن گئے اور 1932ء میں واپس آئے۔یہ وہی زمانہ ہے جس میں ہمارے خاندان کے چار بچوں نے ولایت میں تعلیم پائی اور درد صاحب کمال محبت سے ان کی سرپرستی فرماتے رہے۔اس کے بعد درد صاحب نے ولایت سے واپس آکر اکثر زمانہ نظارت تعلیم و تربیت اور نظارت دعوت و تبلیغ میں گذارا نگران کا خاص کام نظارت امور خارجہ سے تعلق رکھتا ہے۔جہاں وہ غیر معمولی طور پر کا میاب رہے۔درد صاحب کو حکومت کے افسروں اور بغیر از جماعت اصحاب کے ساتھ ملنے کا خاص ڈھنگ آتا تھا۔اور وہ ان ملاقاتوں میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہتے تھے۔مزاج کی سادگی اور کچھ مالی تنگی کی وجہ سے ان کا لباس بہت ہی سادہ بلکہ بعض اوقات درویشانہ رنگ کا ہوتا تھا۔مگر لوگوں سے اس قابلیت اور