تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 245 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 245

۲۴۵ تھے۔دوستی نبھانے میں بھی حضرت درد صاحب منفرد تھے مگر بایں ہمہ جب جماعت اور دین کا سوال آجاتا تھا تو حضرت درد صاحب کو ہرقسم کی دوستی اور محبت کو قربان کر دینے میں ذرا بھی دریغ نہ ہوتا تھا۔وہ جماعت کے نظام کے قیام کے لئے بڑی سے بڑی قربانی پر آمادہ تھے۔نہیں نے سفر و حضر اور حلوت وخلوت میں انہیں احمدیت کا نہایت عبور اور اپنے امام تمام کا سچا عاشق صادق پایا تھا ہے۔حضرت صابزادہ مرزا بشیر احمدرضا کے تاثرات قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر صاحب حادثه انتقال پر حسب ذیل مضمون رقم فرمایا :- ایم اے نے حضرت مولانا حدد صاحب کے محترمی در و صاحب ایک نہایت مخلص خاندان کے فرد تھے۔ان کے والد مرحوم ماسٹر قا در بخش صاحب لدھیانوی قدیم اور مخلص صحابہ میں سے تھے اور ان کے پھوپھا حضرت منشی عبداللہ صاحب ستور منی کو تو جماعت کا ہر فرد جانتا ہے منشی محمد عبد اللہ صاحب سنوری" کا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں نہایت درجہ محبت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور ان کے اخلاص اور تقوی شعاری کی بہت تعریف کی ہے۔یہ وہی بزرگ ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا وہ قمیص عنایت فرمایا حیں پر خدائی روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے۔اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق حضرت منشی صاحب مرحوم کے ساتھ ہی مقبرہ بہشتی قادیان میں دفن کر دیا گیا۔بلکہ جیسا کہ میری تصنیف "سیرت المہدی" میں مذکور ہے، درد صاحب مرحوم کی پھوپھی مرحومہ کی شادی بھی حضرت منشی محمد عبد الہ صاحب مرحوم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر ہی ہوئی تھی۔اس طرح دوتر و صاحب ایک ایسے مبارک خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو احمدیت کی تاریخ میں ایک خاص شان رکھتا ہے۔درد صاحب خود بھی صحابی تھے اور ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بعض باتیں بھی یاد تھیں۔جن میں سے بعض کا ذکر سیرت المہدی میں آچکا ہے۔مگر درد صاحب کی ذاتی خدمات کا سلسلہ خلافت ثانیہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔درد صاحب اور میں نے ایم اے کا امتحان اکٹھا پاس کیا تھا جس کے بعد وہ کچھ عرصہ ضلع ہوشیار پور کے ایک ہائی سکولی میں ملازم رہے۔مگر بہت جلد ہی وہاں سے فراغت حاصل کر کے سلسلہ حقہ کی خیریت الفضل - اردسمبر ٩٥٥اء مث