تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 244 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 244

۲۴۴۴ ہے یہ ہے ہیں لیکن درد صاحب مرحوم و مغفور نے سلسلہ کی خاطر درویشانہ زندگی و امیرانہ زندگی پر ترجیح دی۔مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری نے اپنے قلبی تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا :- عربی مقولہ ہے "موت العالم موت العالم" کہ عالم کی موت جہان کی موت ہوتی ہے۔کیونکہ حقیقی عالم کا وجود دنیا کے لئے نفع رساں وجود ہوتا ہے۔اس کی زندگی خالق کی مرضی کو پورا کرتے ہوئے مخلوق کے فائدہ میں صرف ہوتی ہے۔ایسے وجودوں کے اُٹھ جانے سے واقعی دنیا میں ایک موت طاری ہو جاتی ہے حضرت مولوی عبد الرحیم درد رضی اللہ عنہ ان اہل علم انسانوں میں سے تھے جو مما رزقنهم ينفقون کے مطابق اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے انعامات و مواہب سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے میں زندگی گزارتے ہیں۔وہ اپنے علم ، اپنی عقل ، اپنی فراست اور اپنے اثر و رسوخ سے دوسروں کا پھیلا کرنے میں کبھی کمی نہ کرتے تھے۔روپے کی انہیں خود بہت تنگی تھی۔تاہم بقدر امکان اس پہلو میں بھی کو تا ہی نہ کرتے تھے۔سال ہا سال تک اُن کے ساتھ رہتے اور تعاون دیکھنے کے نتیجہ میں مجھے معلوم ہے کہ حضرت در د صاحب رضی اللہ عنہ سلسلہ احمدیہ کے ان پہنچے اور دنا دار خادموں میں ایک نمایاں وجود تھے۔بوشر و ئیسر اور حالت آرام و تنگی میں خدا کے دین کی خدمت کا قطعی فیصلہ کر چکے تھے۔انہوں نے عملاً پوری وفاداری اور کامل اخلاص و محبت کے ساتھ اس فیصلہ کو نافذ کیا ہے۔بہت سے مراحل ان کی زندگی میں ایسے آئے ہیں جب کھو کھلے انسان ثابت قدم نہیں رہ سکتے۔لیکن حضرت درد صاحب نے ان تمام منزلوں کو نہایت خوبی اور خوبصورتی سے طے کیا ہے۔احمدیت اور اسلام کے لئے اُن کی بے انتہا عقیدت کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ وہ دن رات خدمت دین کرتے تھے۔اور پھر ہمیشہ یہی کہتے تھے اور اسی احساس سے معمور رہتے تھے کہ ہمیں اپنا فرض پورا نہیں کر رہا۔وہ نہ صرف خود علمی اور ٹھوس کام کرنے کے عادی تھے بلکہ ہمیشہ ہی اپنے ملنے والوں اور دوستوں کو ہر روز نصیحت کرتے تھے کہ گہری تحقیق اور پوری ریسرچ سے کتا ہیں اور مضامین لکھے جائیں۔انہیں دینی علوم سے خاص شغف تھا اور جدت اور تحقیق ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔اپنے احباب اور دوستوں کے ساتھ پوری وفاداری اور کامل خلوص کے ساتھ پیش آتے له الفضل - اردسمبر ۱۹۵۵ء مث