تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 242
۲۴۲ یعنی امام صاحب کی فصیح و بلیغ تحریک نے میرے لئے کوئی راہ بچاؤ کی نہیں چھوڑی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علمی ریسرچ کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا چنا نچھ آپ کا بلند پا بہ لٹریچر اگر تبلیغی اور دینی مصروفیت کے ساتھ ساتھ علمی ریسرچ کا سلہ "2 آخر دم تک جاری رہا اور آپ نے متعدد کتب انگریزی اور اردو زبان میں تصنیف فرمائیں، ان میں لائف آف احمد - اسلامی خلافت " - "مسلمان عورت کی بلندشان " "بانی سلسلہ احمدیہ اور انگریز " خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔" لائف آف احمد " جلد را جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سوانح حیات پر مشتمل ہے، ایک ضخیم کتاب ہے اور سلسلہ کی تاریخ کے اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔آپ اس کی مزید دو جلدیں تیارہ کرنے اور ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کو نہایت شرح وبسط کے ساتھ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔اس بلند پایہ لٹریچر کے علاوہ آپ کے ظلم سے مندر جہ ذیل کتب بھی شائع ہوئیں :- " اسلامی الیم" "الهدى" تاریخ اندلس" " روئی داد جلسه جوبلی " آپ کی وفات شہادت کا رنگ رکھتی ہے۔جیسا کہ اوپر ذکر وفات میں شہادت کا رنگ | آچکا ہے۔۷ دسمبر ۱۹۵۵ء کا واقعہ ہے۔آپ دفتر میں تشریف لائے۔طبیعت پوری طرح مہشاش بشاش تھی۔ناظر اعلیٰ حضرت مرز اعزامی احمد صاحب ایم۔اے کے کمرے میں اُن کی میتیر کے ہی ایک طرف بیٹھ کر آپ کام کرتے رہے بسوا بارہ بجے دوپہر کے قریب آپ نے کچھ تکان محسوس فرمائی اور یک لخت ضعف کا شدید دورہ ہوا۔اور حالت غیر ہونے لگی۔گرم دودھ وغیرہ پلانے اور ہاتھ پاؤں دبانے سے طبیعت سنبھل گئی۔اس اثناء میں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خانصاحب بھی تشریف لے آئے۔انہوں نے دوائی بھجوائی اور پھر اس حال میں کہ آپ مسکراتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔آپ کو گھر پہنچا نے اس کا مربی ایڈیشن بھی " مؤسس الجماعة الاحمديه و انگلیز" کے نام سے چھپ چکا ہے۔