تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 13 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 13

سوم حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر سرحد کی اجازت سے نظارت اصلاح و ارشاد کے طریق کار کی وضاحت کی اور مختصر لفظوں میں کہا کہ ابھی تک دستور اور طریق یہ ہے کہ حضور خود مبلغ کا تقرر و تعین فرماتے ہیں خود مبلغ کو علیحدہ اور اکٹھے ہدایات دیتے ہیں پرو گرام تمام مبلغوں کے لئے حضور خود مجموعی اور انفرادی طور پر تجویز فرماتے ہیں اور پھر تمام مبلغوں کی رپورٹوں پر خود تنقید فرماتے ہیں مبلغوں کا تقرر و تبدل حضور کے حکم سے ہوتا ہے پھر ان مبلغین کا انتخاب ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جو انٹرنس پاس کر کے چار سال میں مولوی فاضل پاس کرتے ہیں اور دیگر دینی علوم حاصل کرتے ہیں اس کے دو اڑھائی بلکہ اب تو ساڑھے تین سال جامعتہ المبشرین میں لگاتے ہیں اور جامعتہ المبشرین کی تعلیم وکورس اور امتحان تمام حضور کی نظروں کے ماتحت ہوتے ہیں وقتاً فوقتاً حضور ہدایات جاری فرماتے ہیں۔اس طرح سے یہ بالغین ۲۰ سال سے اوپر اور ۲۵ سال تک تعلیم حاصل کرنے پر اور اب اس کے بعد مزید دو سال کی ٹریننگ کے بعد پھر ان کو پہلے بطور ما تحت مبلغ کے لگایا جاتا ہے جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان مبلغین کی تعلیم و تربیت پر کس قدر وقت اور روپیہ صرف ہوتا اور دماغ سوزی کی جاتی ہے باوجود ان باتوں کے غلطیاں ہوتی ہیں تو ان کی اصلاح ہوتی رہتی ہے غلطی پر پرسش اور پرسش سے زیادہ تعزیری کارروائی تک کی جاتی ہے مبلغین کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ حتی الوسع اپنے پروگرام مقامی جماعت کے امیر کے مشورہ سے تیار کر کے مرکز سے منظوری لے لیں نیز صیحہ نے تمام ممبران کو یقین دلایا کہ جس قدر بے قاعدگیاں دفتر کے نوٹس میں آتی رہتی ہیں ان کا ازالہ کیا جاتا ہے احباب کو چاہیئے کہ مرکز کو وقتاً فوقتاً باخبر رکھتے ہیں۔اس پر تمام احباب نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ موجودہ طریق کار منظور کردہ صدر انجمن احمدیہ علی الف اور مضمون مندرجہ الفضل ۲۶ مارچ ۱۹ ہی صحیح ہے اس میں کسی تغیر کی ضرورت نہیں ہاں رخصت کا علم اور پروگرام کے تجویز کرنے میں حتی الوسع مقامی جماعت کے مشورہ اور علم کو ملحوظ رکھا جائے یا لھ حضرت مولوی صاحب نے اپنی رپورٹ کے آخری حصہ میں جلسہ سالانہ کے پروگرام کی نسبت ل رپورٹ مجلس مشاورت ( منعقده ۷ تا ۲۹ اپریل شار صفحه ۲۱۰۲ +