تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 232 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 232

۲۳۲ اور عنایت تھی کہ اپنے تخدام کی عزت ، قدر اور حوصلہ افزائی فرماتے۔اے خدا کے پیارے مسیح موعود ! اللہ کی ہزاروں اور کروڑوں برکتیں اور رحمتیں ہوں تجھ پر اور تیری آل اولاد پر آپ نے حضرت مسیح موعود علی الصلواۃ والسلام کی دعاؤں کی برکت سے وٹرنری کا لیا لاہور کے طلبہ میں نہ صرف اول پوزیشن حاصل کی اور انعام اور وظیفہ حاصل کیا۔بلکہ کم وبیش نصف صدی تک امتیازی رنگ میں حصار فیروز پور چھاؤنی۔لائل پور منٹگمری۔رہناک اور بھو پاک میں طبی خدمات بجا لاتے رہے ، آپ ابتدائی موصی بھی تھے۔اور تحریک جدید کے انیس سالہ مجاہد بھی۔آپ کے بیٹے سید محمود احمد شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ : " حضرت والد صاحب کا اسم گرامی سید غلام حسین شاہ تھا۔ان کے والد ماجد کا نام سید غلام شاہ تھا۔آپ بھیرہ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔دادا جان نے ایک خواب میں دیکھا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیایت لام کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور دو روپے بطور نذر پیش کئے ہیں چنانچہ اس خواب کو پورا کرنے کی عرض سے حضرت دادا جان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے او حضور کی بیعت کی اور دو روپیہ کی رقم بطور نذر بھی پیش کی لیکن اس خواب کی حقیقی تعبیر یہ تھی کہ بجائے دورہ پر کے دو بیٹے آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جمعیت کرکے خدمت دین کی توفیق حاصل کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کے گیارہ بیٹوں میں سے دو بیٹوں یعنی حضرت قاضی امیر حسین صاحب اور حضرت سید غلام حسین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعیت کی اور خدمت احمدیت حسب توفیق کرتے رہے۔حضرت والد صاحب نے تقریباً چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں شہداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔شاء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم کے مشورہ پر وٹرنری کالج لاہور میں داخل ہوئے اور اپریل سنتشلہ کے امتحان میں محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے طفیل معجزانہ طور پر وٹرنری کالج کے تمام طلباء میں آپ نہ صرف اوّل آئے بلکہ جنرل پروفیشن میں پرنسپل کے گولڈ میڈل کا انعام اور وٹریزی نے الحکم ۲۸ور مشی و ارجون ۲۱۹۳۹ ۲۲ ۲۳