تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 231
کہاں رکھو گے ، رات سرائے میں ٹھہرا۔صبح کو میں بابوجی کے پاس گیا۔اُس نے ایک چھوٹی سی ٹوکری جس میں کہ پانچ سیر کے قریب وزن ہوگا۔میرے سپرد کر دی۔اور کہا کہ فریبندہ نے اس کا محصول ادا کیا ہوا ہے۔یعنی PAID پارسل ہے۔جب میں ٹوکری لے کو سٹیشن سے باہر نکلا تو پتہ لگا کہ جو یکہ رات کو قادیان سے بٹالہ آیا تھا وہ سواریاں لے کر واپس قادیان چلا گیا ہے۔چونکہ بٹالہ سے قادیان کی سڑک کچھی اور بہت خراب اور رتی تھی۔اس واسطے بٹالہ کے بیکہ والے قادیان جانا پسند نہ کرتے تھے ، اگر کوئی جاتا بھی تو بہت کرایہ چارج کرتا۔ہمیں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ آپ بہنگی والا کہا ر لے جاؤ۔چنانچہ میں نے ایک کہار کو وہ ٹوکری دے دی۔اس نے بہنگی کے ایک پلڑا میں یہ ٹوکری رکھ دی اور دوسرے پلڑا میں اتنا ہی پتھر کا وزن رکھ کر کندھے پر اُٹھا کہ میرے ساتھ ہو لیا۔اور چار آنہ مزدوری قادیان تک طے ہوئی۔ہم جلدی ہی قادیان پہنچے گئے۔حضرت کے عطا کردہ پانچے۔وپیر میں سے چارہ آنہ میں نے کہا کو مزدوری دے دی۔اور پونے پانچ روپے جیب میں رکھ کر ٹوکری ہاتھوں میں لے لی مسجد مبارک کی پرانی تنگ سیڑھیوں میں چڑھ کہ سیڑھیوں کے خاتمہ سے قبل ہی جو دروازہ حضرت کے زمانخانہ میں جاتا ہے وہاں ٹھہر کر حضرت صاحب کی خدمت میں اپنی آمد کی اطلاع کرائی حضرت فورا ہی باہر تشریف لائے اور مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ آگئے۔نہیں نے عرض کی حضرت آگیا۔ٹوکری کو دیکھتے ہی یہ فرماتے ہوئے اندر تشریف لے گئے کہ آپ ٹھہریں۔چند منٹ میں حضرت ہاتھ میں ایک بڑا چا تو لئے ہوئے تشریف لائے اور اس ٹوکری کے اوپر جو ٹاٹ سلا ہوا تھا۔اس کو چاقو سے ایک طرف سے کاٹ کر اپنے دونوں ہاتھ اس ٹاٹ کے اندر داخل کر کے باہر نکالتے ہی فرمایا کہ یہ آپ کا حصہ ہے۔میں نے جلدی میں اپنے کرتے میں ڈلوالئے۔رقبل ازیں مجھے علم نہ تھا کہ پارسل میں کیا ہے ) میں نے دیکھا کہ وہ سبزی مائل انگور ہیں۔اتنے میں میں نے وہ پونے پانچ روپیہ جبیب سے نکال کر پیش کئے۔اور عرض کیا که حضور یہ بقایا رقم ہے۔صرف چار آنہ خرچ ہوئے ہیں۔اس پر حضرت نے بڑی شفقت سے فرمایا کہ ہم اپنے دوستوں سے حساب نہیں رکھا کرتے " اتنا فرمایا اور ٹوکری اُٹھا کر اندر تشریف لے گئے۔انگور میرے کرتے ہیں اور پونے پانچ روپیہ میرے ہاتھ میں رہ گئے۔۔۔سبحان اللہ ! کیا اعلیٰ فقرہ فرمایا کہ ہم اپنے دوستوں سے حساب نہیں رکھا کرتے۔میں اس وقت ۱۴ ، ۱۵ سال کا نتیجہ تھا۔یہ حضرت کی شفقت تمہربانی