تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 230 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 230

۲۳۰ آپ کی زندگی کا ایک یادگار واقعہ آپ کا سفر بٹالہ ہے جو آپ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی تعمیل میں کیا اور جس پر حضور نے اظہار خوشنودی فرما یا۔ذیل میں آپ ہی کے قلم سے اُسے درج کیا جاتا ہے۔عاجز کو خدا کے محض فضل سے چودہ سال کی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعیت نصیب ہوئی مجھے اس بات کا از حد شوق تھا کہ حضرت اپنی زبان مبارک سے مجھے کسی قسم کا بھی کام کرنے کا ارشاد فرمائیں تا کہ نہیں اس کی تعمیل کر کے اپنی خواہش پوری کروں۔غالبا ملا تھا جبکہ ہم درجن بھر آدمی حضرت کے ساتھ گول کمرہ میں کھانا کھاتے اور چھوٹی مسجد میں جو کہ آپ مسجد مبارک کہلاتی ہے ، نماز پڑھا کرتے تھے۔مجھے اکثر حضرت کے پاؤں دبانے اور حضور کو پنکھا جھلنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ظہر کی نمانے کے بعد حضرت مسجد میں ہی ڈاک پڑھا کرتے تھے جو کہ ان ایام میں دوپہر کو آیا کرتی تھی۔ایک دن میرے دل میں بڑا جوش اور شوق پیدا ہوا کہ آج اگر حضرت مجھے کسی کام کا ارشاد فرمائیں تو دل کی تمنا پوری ہو۔حضرت تو ڈاک پڑھ رہے تھے اور میرا دل تڑپ رہا تھا کسی کام کے کرنے کیلئے کہ اتنے میں حضرت صاحب نے خط پڑھتے پڑھتے گردن مبارک کو اوپر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ یہ ایک ملٹی ہے آپ بٹالہ سے جا کر لے آئیں۔بس پھر کیا تھا۔میرا دل تو باغ باغ ہو گیا۔بلیٹی میرے ہاتھ میں دے کر فرمایا۔ابھی ٹھہرنے اور حضور اندر تشریف لے گئے۔چند منٹ میں باہر تشریف لاکر میرے ہاتھ میں پانچ روپے دے کر فرمایا کہ یہ اس کے اخراجات کے واسطے ہیں۔روپے اور ملٹی لے کہ خوشی سے اچھلتا ہوا ئیں مسجد سے نیچے اُترا لیتے کے اڈے سے پتہ لگا کہ اس وقت یہانی کوئی یہ نہیں۔کیونکہ اس نہ مانہ میں ایک یا دو یتے ہوتے تھے۔اگر وہ بٹالہ چلے جاتے پھر قادیان سے بٹالہ تک جانے کے واسطے کوئی سواری نہ ہوتی۔خیر میں پیدل چل پڑا۔اور شام کو بٹالہ اسٹیشن پر بابو جی کو ملیٹی دکھائی۔اس نے کہا پارسل آیا ہوا ہے تم صبح چھڑا لینا۔آب رات کو القیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ میری تنخواہ میں سے دو پیر اضافہ ہوا ہے اور بنگال سے ایک درخواست آئی ہے کہ نہ پیری کی پوسٹ خالی ہے، عہ روپیہ یا ہوار ملیں گے۔اس لئے مشورہ استفسار ہے کہ کونسی جگہ منظوری کی جاوے، آپ نے فرمایا کہ استخارہ مسنونہ کے بعد جس طرف طبیعت کا میلان ہو۔وہ منظور کر لو"