تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 12
۱۳ ایک جیسی نہیں ہوتی پھر جماعتوں کے رجحانات الگ الگ ہوتے ہیں۔اِس طرح اگر الگ الگ افراد و جماعتوں کے رحم و کرم پر سیلفین چھوڑ دئیے جائیں تو تبلیغ کی پالیسی کی یکسانیت ٹوٹ جاتی ہے بعض جگہوں میں ابھی تک مبلغین کے علمی مقام اور نمائندہ مرکز کی حیثیت کا وہ احساس نہیں جیسا کہ ہونا چاہیئے مبلغ کے احترام کے پیش نظر اس کا مرکز کے ماتحت ہی براہ راست رہنا ضروری ہے۔مولانا جلال الدین صاحب شمس نے فرمایا کہ قاعدہ صدر انجمن ۶۸ الف اور ارشاد حضور نہایت واضح ہیں ان میں تمام مشکلات کا حل موجود ہے اور ہر مبلغ کی حیثیت بمقابلہ امراء ومضات سے بیان کی گئی ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہیں جن مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے وہ مرکز کی طرف رجوع کرنے سے حل ہوسکتی ہیں۔اس لئے مبلغ کی حیثیت برقرار رکھنی چاہئیے اور وہ مقامی جماعت کا روحانی اُستاد ہونے کی وجہ سے یہ حق رکھتا ہے کہ اس کی پوزیشن بالا رہے۔مولوی احمد خاں صاحب نسیم نے فرمایا کہ جو مبلغ امیر مقامی اور جماعت سے تعاون ومشورہ سے کام نہ لے اُن کو وہ مبلغ نہیں سمجھتے، ان کو اس امر پر زور دینے کی ضرورت اس وجہ سے بھی محسوس ہوئی کہ بعض ممبروں کا اِن کی طرف بھی اشارہ ان کو محسوس ہوا مگر انہوں نے وضاحت فرمائی کہ اگر کبھی ان کے دورہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو وہ بجٹ کے ختم ہو جانے کی وجہ سے اور مقامی جماعت کے پاس فنڈز کی قلت کی وجہ سے۔والا وہ ہمیشہ مشورہ اور تعاون سے کام کرنے کے عادی ہیں۔بالآخر مولانا ابو العطاء صاحب نے اپنی اخلاص سے پر تقریر کے ساتھ تمام احباب کی تو تبہ اس طرف مبذول کروائی کہ مبلغ خواہ کیسا ہی نوجوان ہو اس کی پوزیشن ایک روحانی استاد معلم اور رہنما کی ہوتی ہے حجاب جماعت جس قدر اس پوزیشن کو اعلیٰ اور ارفع بنائیں گے اسی قد اس کے کام میں برکت ہوگی اور دوسروں کی نظروں میں بھی اور اپنوں کی نظروں میں اس کا احترام و ادب پیدا ہو گا اور اتنی ہی اس کے الفاظ میں برکت ہوگی اور اگر اس کو ایک معمولی کارندہ اور ملا کی حیثیت دی جائے گی تو وہ اپنے کام میں ناکام رہے گا۔اس کے بعد حضرت مولوی محمد دین صاحب نے بتایا کہ انہوں نے سب کمیٹی کے صدر