تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 224
۲۲۴ مجھے بے اولاد کر دے کیونکہ میرا نام تو نے روشن کرتا ہے میری اولاد نے نہیں نہیں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ میری ساری اولاد دین کی خدمت کرنے والی ہو۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا نہ تھا۔مگر کیا دنیا میں کوئی شخص ہے جو آپ کا نام معزت سے نہیں بنتا۔آپ کا خدا سے تعلق ہو گیا اور خدا نے آپ کے نام کو ابدی طور پر زندہ کر دیا۔پس جس کا خدا سے تعلق ہو جائے اسے ڈر ہی کس بات کا ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح ناصرتی کو دیکھ لو، آپ کی کوئی جسمانی اولاد نہ تھی جو آپ کے نام کو زندہ رکھتی۔مگر آج ساری دنیا کے عیسائی کو اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے انہیں خدائی کا رتبہ دیتے ہیں۔مگر وہ آپ پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔وہ کام خود اچھا کرتے ہیں مگر ہر اچھا کام کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ کہ سچن سو بازیشن ہے۔چونکہ ان کی قوم میں رحم کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے۔اس لئے اگر وہ کسی موقع پر رحم سے کام لیتے ہیں تو ساتھ ہی کہہ دیتے ہیں کہ یہ که سچن سوئزیشن ہے۔برسی کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔اگر میت کے اپنے بیٹے ہوتے تو کیا بن جاتا۔اور ان کا نام کتنے عرصہ تک باقی رہنا۔لیکن چونکہ انہوں نے اپنی زندگی خدا تعالے کے لئے وقف کر دی۔اس لئے خدا تعالے نے ان کو وہ عظمت دی کہ آج سارا یورپ اور امریکہ ان کی عزت کر رہا ہے۔بلکہ یورپ کے ایک چھوٹے سے چھوٹے ملک کے عیسائی جس طرح حضرت میں کو یاد رکھتے ہیں۔اگر ان کے اپنے بیٹے بھی موجود ہوتے تو اس طرح اُن کو یاد نہیں رکھ سکتے تھے۔اسی طرح نہیں سمجھتا ہوں ماسٹر محمد حسن صاحب آستان نے بھی ایسا نمونہ دکھا یا ہے جو قابل تعریف ہے۔وہ ایک معمولی مدرس تھے۔اور غریب آدمی تھے۔انہوں نے فاقے کر کر کے اپنی اولاد کو پڑھایا اور اسے گریجوایٹ کرایا۔اور پھر سات لڑکوں میں سے چارہ کو سلسلہ کے سپرد کر دیا۔آپ وہ چاروں خدمت دین کر رہے ہیں اور قریباً سارے ہی ایسے اخلاص سے خدمت کر رہے ہیں جو وقف کا حق ہوتا ہے۔اگر یہ بچے وقف نہ ہوتے تو ساتوں مل کر شاید دس بیس سال تک اپنے باپ کا نام روشن رکھتے اور کہتے کہ ہمارے ابا جان بڑے اچھے آدمی تھے مگر جب میرا یہ خطبہ چھپے گا تو لاکھوں احمدی محمد حسن صاحب آسان کا نام لے کہ ان کی تعریف کریں گے اور کہیں گے کہ دیکھو یہ کیسا با ہمت احمدی تھا کہ اُس نے غریب ہوتے ہوئے اپنے سات بچوں کو اعلی تعلیم دلائی۔اور پھر ان میں سے چار کو سلسلہ کے سپرد کر دیا۔اور پھر وہ بیچتے بھی ایسے نیک ثابت ہوئے کہ انہوں نے خوشی سے اپنے باپ کی قربانی کو قبول کیا اور اپنی طرف سے بھی ان کے