تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 220
دہلی کے ستنتر کلب میں جس کے تمام ممبر اعلی تعلیم یافتہ اور نئی روشنی کے دلدادہ تھے۔اور دہریت کے زیر اثر تھے۔مہینوں ہر اتوار خدا کی بستی پر تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔کلب کے تمام ممبر ایک طرف اور والد صاحب دوسری طرف اکیلے تھے۔آخر ان کا سالانہ جلسہ آیا۔سیکرٹری نے رپورٹ میں صاف اقرار کیا کہ خدا کی ہستی کے انکار پر اب اُن کے پاس کوئی دلیل باقی نہ رہی تھی۔ہر موضوع پر فی البدیہ تقریر کر لیا کرتے تھے۔سکولوں اور کالجوں کے لئے ہم بھائی کسی ڈی بیٹ کے لئے مواد مانگتے تو موافق اور مخالف دلائل اس طرح بتاتے کہ حیرت ہوتی۔اور ہمارے سکول اور کالج کے اساتذہ جو ایم اے سابق ہوا کرتے حیران رہ جاتے کہ یہ بھائی کس طرح اپنی تقاریر دوسرے لڑکوں سے پہلے تیار کر لیتے ہیں۔۔۔مجھے یاد ہے کہ جب برادرم مکرم جناب مولود احمد خانصاحب بی اے امام مسجد لنڈن اور یہ عاجینہ پانی بہت سے معینہ اور فی البدیہ مقابلوں میں انعامات جیت کر اور ریکارڈ توڑ کر گئے۔تو سکول کے سیکنڈ ما سٹر استاذی المکرم جناب محمد ہاشم خان صاحب ایم اے بی ٹی نے جو کہ غیر احمدی ہیں۔تمام اسکول کے سامنے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے کہا " یہ دونوں بھائی اس باپ کے بیٹے ہیں جو نہایت قادر الکلام مقرر ہے۔اور اُن کے باپ کے اس فن کو جماعت احمدیہ نے چار چاند لگا دیئے ہیں! جس طرح وہ بولنے پر قادر تھے۔اسی طرح وہ تحریر کے بھی دھنی تھے۔خاص دتی کی ٹکسالی زبان ہیں لکھا کرتے تھے۔اُن کے افسانے اور کہانیاں اور ڈرامے آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہوئے۔افسانے اور کہانیاں انہوں نے خود بھی ریڈیو پر براڈ کاسٹ کیں۔لیکن اُن کی ہر تحریر میں احمدیت کا نہاگ جھلکتا تھا۔افسانوں میں بھی پاکیزہ خیالات کا اظہار کرتے تھے اور مضامین میں تو بعض اوقات خالص تبلیغی ہو جاتے خواجہ محمد شفیع دہلوی کی مجلس میں ایک وقعہ بہائی مقررہ مسنر فوجدار نے بہائی تحریک کی تاریخ پر فخریہ کی۔خواجہ حسن نظامی اور سر رضا علی بھی شامل تھے بستر فوجدار نے دوران تقریر کہا کہ قرآن کا اثر زائل ہو گیا۔اس لئے نئی تشریعیت کی ضرورت ہے تقریر کے بعد دوسرے حاضرین بہائیت سے متعلق احکام پوچھتے رہے کہ نمانہ میں کتنی ہیں۔روزے کتنے وغیرہ وغیرہ۔والد صاحب کو غصہ آیا کہ ہمارے اسلام پر اعتراض ہوا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کا جواب دے لایعنی باتیں پوچھ رہے ہیں۔آخر والد صاحب نے وقت مانگا۔اور اس اعتراض کا جواب دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا نام لے کہ نیا یا کہ کس طرح قرآن کا اثر آج تک قائم ہے اور خدائی نشان آج بھی اسلام کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں تمہید میں والد صاحب نے بتایا کہ یہ اثر ہرزمان