تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 219 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 219

۲۱۹ اس قابل تھا کہ اُسے اس عظیم شرف" پر بلا توقف قربان کر دیا جائے۔آپ کا ایک شعر جو اکثر وبیشتر آپ کی تربیتی تقریروں کا نقطہ مرکزی ہوتا تھا۔وہ شعر یہ ہے اور اسی پر ہمیں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔کیا کم شرف ہے احمد مرسل کا ہوں غلام : آسان دنیا لاکھ کہے تم غریب ہو " جناب پروفیسر سعود احمد خان صاحب دہلوی نے آپ کی تبلیغی وادبی خدمات کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے :۔بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے دفتر کی تنخواہ کافی نہ تھی۔اس لئے کئی کئی ٹیوشنیں روزانہ پڑھاتے چنانچہ اس سبب سے ماسٹر مشہور ہوگئے۔اُن کی اس محنت نے اُن کو بوڑھا کر دیا۔اور جیب اس محبت کے دنیوی پھل کھانے کا وقت آیا تو بچوں کو وقف کر دیا۔اور ہم کو یہی تلقین کی۔اُن کی خود اپنی زندگی احمدیت کی فدائیت میں گزری۔اتوار چھٹی کا دن ہوتا ہے۔اس کی صحیح تبلیغ میں گزارتے۔اور پھر تین بجے کام پر چلے جاتے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ اس انہماک سے کیا تھا کہ عیسائیوں ، آریوں اور دہریوں کے عمیق مسائل پر نہایت دلیری سے مباحثہ کیا کرتے۔لیکن کچھ بحث نہ تھے کبھی مناظرہ کا چیلنج نہ کیا۔اور ضرورت پر ہمیشہ کوشش کی کہ مرکز سے کوئی بزرگ عالم تشریف لائیں اور کسی بزرگ کے نہ آنے پر کہا کرتے اچھا جہاں اور روپ نہ سہی ارنڈ روپ سہی" یعنی جیسے صحرا میں کسی کو اور درخت نہ ملے اور پپیتہ کے درخت کے چار پانچ پتوں کا ہی سایہ میسر آجائے تو قیمت ہے۔اسی طرح اگر کوئی عالم نہ سہی۔تو پھر خود مناظرہ کیا کرتے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے نہایت کامیاب مناظرے کئے اور کبھی کوئی مناظرہ فساد یا لڑائی پر ختم نہ ہوا۔دوسرے مذاہب کے زیر دست مناظرین بھی والد صاحب کی قوت استدلال کے قائل تھے۔اور آپ کی عزت کیا کرتے تھے۔عیسائیوں میں پادری جوالا سنگھ ، پادری سلطان پال - پادری عبدالحق۔پادری احمد سیح اور آریوں میں جہاشہ دھرم بھکشو مہاشہ رام چندر اور دتی کے غیر احمدی علماء سے معرکۃ الآرا اور کامیاب مناظرے ہوئے۔مجھے یاد ہے میں تعلیمی زمانہ میں ایک دقعہ مفتی کفایت اللہ صاحب کے پاس گیا۔اور ختم نبوت پر ان سے استغفار کئے ، وہ جواب دیتے رہے ہیں نے مزید سوال کئے۔آخر وہ کچھ سمجھ گئے۔قطع کلام کر کے کہا کہ تم کون ہو کس کے بیٹے ہو۔نہیں نے کہا آسان صاحب کا۔کہنے لگے میں تم سے بات نہیں کرتا۔وہ بڑے زبر دست مناظر ہیں۔پھر انہوں نے میرے والد صاحب کا عزت سے ذکر کیا۔