تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 204
ہم حضرت حکیم شیخ فضل حق حمات بٹالوی د ولادت ۱۸ جون شده او تقریبا بیت اندازا دار - وفاتی در جولائی ۱۹۵۵ء) هرا آپ کے والد شیخ نور احمد خانصاحب ذکار رئیس بٹالہ " براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت کے دوران حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور شروع سے ہی حضور کے عقیدت مند تھے۔اگر چہ شیخ نور احمد صاحب نے مبیعیت نہیں کی مگر مخالفت بھی کبھی نہیں کی۔اور مردم شماری میں اپنا نام احمد ہی لکھوایا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۷ دسمبر شعراء کے جلسہ سالانہ میں شریک ہوتے والے اصحاب کی فہرست میں ان کا نام ۱۲ نمبر پر اور انکے بیٹے حضرت حکیم شیخ فضل حقی صاحب کا نام ۱۴۷ تمبر پر درج فرمایا شیخ نور احمد صاحب ۲۲ ستمبرک شاہ کو فوت ہوئے۔اور اپنے بھائی مکرم ظفر الحق خانصاحب اور بہنوں کی پرورش اور تعلیم نیز سارے خاندان کی ذمہ داریاں حضرت شیر فضل حق صاحب پر آگئیں کہ آپ کی ایک بہن کی نسبت بٹالہ کے ایک معززہ غیر احمدی خاندان میں ہو چکی تھی۔والد ماجد کی وفات کے بعد حضرت حکیم صاحب نے ان لوگوں سے کہ دیا کہ اب میں اپنی بہن کا ولی ہوں ، نہیں اس کا رشتہ احمدیوں میں ہی کروں گا۔چنانچہ آپ کی یہ بہن حضرت ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے کے ساتھ بیاہی گئیں۔اسی طرح آپ کی بڑی بیٹی کے رشتہ کے لئے اُس کے غیر احمدی نانا نے ایک بڑے معزز خاندان میں سلسلہ جنبانی شروع کر رکھی تھی۔حضرت حکیم شیخ فضل حق صاحب نے اس کا رشتہ بھی حضرت مصلح موعود کے ایماء سے حکیم فضل الر حمن صاحب (مبلغ افریقہ) کے ساتھ کر دیا اور اس طرح دین کا ایک معیاری نمونہ پیش کیا۔مکرم عبد الجلیل خانصاحب عشرت بی اے آنرز نے حضرت شیخ فضل حق صاحب بٹالوی کے حالات زندگی پر الفضل 19 مئی شاہ کے صفحہ ہم پر ایک معلوماتی مضمون لکھا۔جس میں خاص طور پر ان کے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے اس مثالی نمونہ کا تذکرہ کیا۔نیز کھاکہ " مرحوم کی جوانی کے ایام ه روزنامه الفضل ربوه ۲۸ جولائی شامت نے روزنامه الفضل ربوہ 19 مئی ١٩٥٥ ء ما سه۔" آئینہ کمالات اسلام " ضمیمه ه روزنامه الفضل ربوه در جولائی شفاء۔۔