تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 203 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 203

۳۰۳ حضرت اقدس نے اس اخبار کی منظوری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ہماری طرف سے اجازت ہے خواہ آپ ایک سو پرچہ جاری کریں۔شاید اللہ تعالی اس میں برکت دے دیوے " کچھ عرصہ تک نگر خانہ کا انتظام بھی آپ کے سپر د رہا۔حضرت اقدس مسیح موعود کی مرض الموت میں آپ ہی صدقہ کے دو بکرے خرید کر لائے۔اور آپ ہی نے ان کو ذبح کیا۔واپسی پر جو خوش نصیب بزرگ حضور کا جسد اطہری امور سے قادیان لائے ان میں آپ بھی شامل تھے۔۱۹۴۷ء تک آپ بہاولپور کے فوجی ہسپتال میں اور بعد ازاں کئی اور سول ہسپتالوں میں طبی خدمات بجا لاتے رہے۔بہاولپور میں کئی سالوں تک جماعت کے سیکرٹری رہے۔جمعہ اکثر آپ ہی کے مکان پر پڑھا جاتا تھا۔امامت بھی آپ خود کراتے رہے۔آپ کی شہرت ایک دیانت دار اور پارسا شخص کی حیثیت سے ایسی نمایاں تھی کہ آپ ہز ہائی نس نواب بہادر نواب صادق محمد خان خامس عباسی والٹی ریاست بہاولپور کے محل کے میڈیکل آفیسر مقرر کردیئے گئے مگر احدیت کی وجہ سے آپ کی سخت مخالفت ہوئی اور آپ کو اس عہدہ سے برخاست کہ دیا گیا۔آپ پیغام احمدیت پہنچاتے رہے۔اور سچی بات کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔آپ حد درجہ جہان نواز تھے۔ایک احمدی ڈاکٹر کی حیثیت سے آپ میں یہ وصف بھی بہت نمایاں تھا کہ نہ صرف مریضوں کا ہمدردی سے علاج کرتے بلکہ نقدی، کپڑوں اور غذا سے بھی مدد فرماتے۔بڑے متوکل انسان تھے۔" اللہ مالک ہے " تکیہ کلام تھا۔قرآن مجید کا ایک خاصا حصہ حفظ تھا۔در ثمین اردو و فارسی کے بہت سے اشعار یاد تھے۔اور اس کا ذوق اپنے بچوں میں پیدا کرنے کے لئے اکثر بیت بازی کراتے اور ان کی ذہانت پر خوش ہو کہ انعام بھی دیتے تھے۔شعر وسخن کا پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔آپ کی بعض نظمیں الفضل اور مصباح میں شائع شدہ ہیں۔ء میں آپ پنشن لے کر مستقل طور پر قادیان آگئے اور پھر تقسیم ملک کے بعد ماڈل ٹاؤن لاہور میں قیام پذیر ہو گئے۔ام ار جنوری ۵اء کو انتقال کیا۔اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کئے گئے۔ڈاکٹر احسان علی صاحب۔سردار رحمت اللہ صاحب - سردار عبد الرحمن صاحب۔اولاد - حمیده صابرہ بیگم صاحبہ - امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ - سردار عبد المنان صاحب - سردار عبد السّلام صاحب سردار عبدالحمید صاحب سردار عبد الرشيد صاحية۔له تاریخ احمدیت لاہور " ۲۸۲۔(موسقه مولا نا عبد القادر صاحب۔نومسلم )