تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 202
۲۰۲ ہوئے کہ احمدیت کی صداقت پر یقین ہو گیا۔مکرم ڈاکٹر فیض علی صاحب بتایا کہ تے تھے کہ ” ہم دونوں بھائی ایک دوسرے سے کچھ فاصلہ پر کام کرتے تھے۔نہیں ان دنوں خوب فیشن ایبل تھا اور دین کی طرف کم ہی وحیان تھا۔رخصت لے کر بڑے بھائی صاحب کو ملنے آیا۔تو انہیں دیکھ کہ نہیں حیران رہ گیا۔ان کے اندر نمایاں تبدیلی پیدا ہو چکی تھی۔خوبصورت چہرہ پر ایک چھوٹی سی ڈاڑھی عجیب بہار دکھا رہی تھی اور نماز و عبادت سے شغف بڑھ گیا تھا۔مجھے بتایا گیا کہ آپ کریم ڈاکٹر رحمت علی صاحب کی تبلیغ سے احمدی ہو چکے ہیں۔میں چونکہ اپنے بھائی کا بہت احترام کرتا تھا اس لئے ان میں یہ تغیر دیکھ کر میں نے بھی بیعیت کا خط لکھ دیا۔پھر قادیان آکر دستی بعیت بھی کی ہے الحکم ۳۱ مارچ تشاء صفحہ ، پر دونوں بھائیوں کا نام فہرست نو مبائعین میں درج ہے۔بعیت کے بعد سرکاری محکمہ کی طرف سے حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب اور آپ کو ایک ڈیوٹی پر بمبئی بھیجا گیا۔بیٹی سے یہ دونوں بزرگ تیسرے روز جمعہ سے کچھ پہلے قادیان پہنچے۔زمانہ میں حضرت اقدس مسیح ولو علیہ سلام بھی تشریف لائے۔مگر خطبہ جمعہ حضرت مولانا نورالدین صاحب بھیروبی نے دیا جس میں سورۃ فلم کا نہایت پر معارف اور روح پرور تغییر بیان فرمائی۔قادیان میں مختصر قیام کے دوران آپ نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔چنانچہ فرماتے ہیں۔جب میں نے بیعت کی تو مجیب خوف آمیز سنساہٹ کی لہریں میرے تمام رگ و ریشہ میں پیدا ہوئیں اور تمام جسم گویا ڈھل کرنٹے سانچے میں ڈھل گیا تھا۔افسوس میں اس روحانی لذت کی کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا ہے یہ اپریل تشار کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔اوائل تشاد میں آپ ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے ستمبر 2ء میں آپ نے حضرت بابو محمد افضل صاحب کی رفاقت میں سلسلہ احمدیہ کا دوسرا مرکزی اخبار " البدر" جاری کیا۔جو سلسلہ کے اس ابتدائی دور کی تاریخ کا ایک اہم ماخذ ہے۔اور جس کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔آپ " البدر" کے مہتم سنتے اور حضرت بابو صاحب اس کے ایڈیٹر۔شروع شروع میں حضرت اقدس مسیح موعود کی ڈائریاں آپ خود لکھنے تھے بعد میں آپ نے اُنہیں بھی اس خدمت میں شامل کر لیا ہے لاہور تاریخ احمدیت تا مصنف مولاناشيخ عبدلقادر مرحوم سابق سوداگری به احکم ۲۰ اپریل انشاء مشت گو در خلافت اولی می بھی جاری رہا اگرحضرت ڈاکٹر ہا ہا اس زمانہ میں نیا سے کوئی تعلق ز سارا آپ قادیان سے باہر لازم ہے۔