تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 191
191 گڑھے میں گرا دیتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مدینہ العلم میں بیت الفکر کے محلے کے ساتھ ساتھ بیت الذکر کا محلہ بھی آباد کر دیا تا کہ محض عقل کے استعمال کے نتیجہ میں جو خطرات انسان کو پیش آسکتے تھے وہ بیت الذکر یعنی دینی حصہ کے ساتھ دور ہو جائیں۔پھر جس طرح و نیوی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل طلباء کو جیہہ فضیلت پہنایا جاتا ہے اسی طرح اس مدینتہ العلم کے رہنے والوں کا بھی ایک جبہ فضیلت ہے۔چنانچہ لکھا ہے :- " رڈیا دیکھا کہ میں ایک فراخ اور خوبصورت اور چمکدار جبہ پہنے ہوئے چند آدمیوں کے ساتھ ایک طرف جارہا ہوں اور وہ چونہ میرے پاؤں تک لٹک رہا ہے اور چمک کی شعاعیں اس میں سے نکل رہی ہیں۔گویا دنیوی تعلیمی اداروں نے جو اپنا جبہ فضیلت تیار کیا ہے وہ تو کالے رنگ کا ہے لیکن اس ، مدینۃ العلم کے رہنے والوں کو جو جیبہ فضیلت دیا جائے گا وہ نہایت خوبصورت اور چمک دار ہوگا اس سے نورانی شعاعیں نکلیں گی وہ نہ صرف پہننے والے کی شان کو ظاہر کرے گا بلکہ اپنی چمک اور نور سے دوسروں کی ہدایت کا بھی موجب ہو گا پہنے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر حمد صاب کی طر حضرت صاجزادہ مرزا ناصر حمایت اپنسیل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ نے اپنے اس معلومات افروز دینی اور دنیوی وقف کی تحریک کی۔لیکھ کے آخرمیں اجاب سیاحت کو یہ کچھ زور پُر تحریک بھی فرمائی کہ وہ دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے اپنی زندگی وقف کریں اور سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں سرگرم عمل ہو جائیں۔آپ نے فرمایا۔یاد رکھنا چاہئیے کہ وقف محض دینی ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ دونوں طرح کا ہوتا ہے۔دینی بھی اور دنیوی بھی۔آپ کسی ترقی یافتہ قوم یا ملک کو دیکھ لیں ، اس میں آپ کو کثرت سے واقف نہ ندگی طبیبی گے۔چند ماہ ہوئے مشہور انگریزی رسالہ " ریڈرز ڈائجسٹ میں ایک کتاب کا خلاصہ چھپا ہے۔اس میں ایک عورت کا ذکر کیا گیا ہے جو اور میں بیمار ہوئی۔ڈاکٹروں نے اسے مشورہ دیا کہ اس کا شہری فضا میں۔ه تذکره طبع اول مشال - سه رساله الفرقان ربوه تعلیمی نمبر جنوری ۱۹۵۷ء ملا نام ۱