تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 184 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 184

۱۸۴ یونٹ مقرر کرتا ہوں کیونکہ پارٹیشن کے بعد شراء تو قریبا انتقال مکانی میں ہی گذرا۔باقی سات سال کے عرصہ میں جماعت احمدیہ نے جامعتہ المبیشترین کے علاوہ پاکستان کے تعلیمی اداروں پر سولہ لاکھ پچاس ہزار دوسو بیالیس روپے ایک آنہ خرچ کیا ہے۔جامعتہ المبشرین کے صحیح اعداد و شمار مجھے نہیں مل سکے۔(یہ ادارہ تحریک جدید کے ماتحت ہے) لیکن ایک عام اندازہ کے مطابق اس پر دو لاکھ اسی ہزار روپیہ خرچ کیا جا چکا ہے۔گویا مجموعی طور پر پاکستان میں قائم شدہ جماعت کے تعلیمی اداروں پر گذشتہ سات سال کے قلیل عرصہ میں انیس لاکھ روپیہ سے زائد رقم خرچ کی جاچکی ہے۔بیرونی ممالک میں قائم شدہ تعلیمی اداروں پر جماعت سات لاکھ روپیہ سالانہ سے زیادہ خورا کر رہ ہی ہے۔ان سب اخراجات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کی میران ۷۰ دستر) لاکھ روپیہ سے زیادہ بن جاتی ہے۔اور یہ کوئی معمولی رقم نہیں خصوصاً اس جماعت کے لئے جس کو ۲۶ ء میں اپنا مرکز چھوڑنا پڑا۔دنیا داروں کی نگاہ میں اس کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔اور مرکزی چندوں کی آمد لاکھوں روپے سالانہ سے گر کر چند سو روپے سالانہ پہ آرہی تھی۔مقامی لوگ جنہیں ہجرت کی تکالیف برداشت نہیں کرنی پڑیں۔انہیں ان مصائب اور تکالیف کا اندازہ نہیں ہو سکتا جو اس جماعت کو پیش آئیں۔ہاں وہ لاکھوں لوگ جنہیں مشرقی پنجاب چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا ، خوب جانتے ہیں کہ یہ سات سال کا عرصہ مہاجروں نے کسی طرح گذارا ہے لیکن کہاں وہ دنیا داروں کی نظر میں پٹی ہوئی اور تباہ شدہ جماعت اور کہاں خدا تعالیٰ کا یہ فضل کہ اس جماعت نے خدا تعالیٰ کی ہی دی ہوئی توفیق سے صرف تعلیمی اداروں پر ۷۰ دستر) لاکھ روپیہ کے قریب رقم صرف گذشتہ سات سال کے عرصہ میں خرچ کی۔تعمیر کا خرچ اوپر دیئے ہوئے اندازہ کے علاوہ ہے۔صرف تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی عمارت پر اس وقت تک پانچ لاکھ روپیہ کے قریب رقم خرچ کی جا چکی ہے۔اور اس کے نتیجہ میں عمارت تنبیہ کی گئی ہے۔سرکاری عمارات سے ان کا مقابلہ کیا جائے تو وہ گورنمنٹ کے شیڈول کے مطابق چودہ پندرہ لاکھ روپے سے کم مالیت کی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کے روپیہ میں اس قدر برکت دی ہے کہ گورنمنٹ جس عمارت پر چودہ پندرہ لاکھ روپے خرچ کرتی ہے۔اسی قسم کی عمارت ہم چار پانچ لاکھ روپیہ کی لاگت میں تیار کر لیتے ہیں قادیان سے پاکستان میں ہجرت کرکے آنے کے بعد ہمارا کالیچ عارضی طور پر ڈی۔اے۔وی۔کالج i لاہور کی عمارت میں لکھا۔وہاں ایک دفعہ یہ شور اُٹھا کہ ہمیں یہ عمارت چھوڑ دینی چاہیے۔نہیں ان دنوں