تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 183
١٨٣ تو یقینا سنجیدگی سے دیکھنے والوں کی نگاہوں میں یہ جماعت کا ایک عظیم الشان اور حیرت انگیز کارنامہ ہے۔جماعت کے تعلیمی اداروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔(1) دینی ادارے (۲) وتبوی ادارے۔پہلی قسم کے اداروں میں سے مدرسہ احمدیہ ، جامعہ احمدیہ اور جامعتہ المبیشترین کے ادارے ہیں۔یہ ادارے خاص مذہبی اور دینی نقطہ نگاہ سے جاری کئے گئے ہیں۔جامعہ المبشرین میں پاکستان اور دوسرے ممالک کے و مبلغین تیار کئے جاتے ہیں۔اسی طرح بیرونی ممالک سے آنے والے طلباء کی تعلیم و تربیت کا کام بھی اسی ادارہ کے سپرد ہے۔مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے سپرد جامعہ المبشرین میں داخلہ کے لئے طلباء کو تیار کرنا ہے۔ان کے مقابل پر دنیوی تعلیم کے ادارے ہیں۔پاکستان میں جماعت کے ان اداروں کو چھوڑ کہ جو احباب جماعت یا انجمنیں چلا رہی ہیں۔جماعت کی براہ راست نگرانی اور انتظام میں چلنے والی دنیوی تعلیم کے ادارے یہ ہیں :- ۱ - تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ۔۲ - تعلیم الاسلام کالج ریبوه ۳- نصرت گولنہ ہائی سکول ریوه ۴ - جامعہ نصرت ریوه د تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیا میاں ضلع سیالکوٹ - نصرت گرلز ہائی سکول سیالکوٹ شہر پاکستان کے علاوہ دوسرے سات ممالک میں بھی بعض تعلیمی ادارے جاری کئے گئے ہیں۔جو نہایت کامیابی سے چل رہے ہیں۔اس وقت تک اُن کی تعداد تیس تک پہنچ چکی ہے ان کی تفصیل یہ ہے :- -1 گولڈ کوسٹ مغربی افریقہ : انٹرمیڈیٹ کالج اسکول 11 ۲- نائیجیریا اسکول 1۔سیرالیون مشرقی افریقہ ه سنگا پور ملایا فلسطين h- ے۔انڈونیشیا ہم 1 ان تمام اداروں کے اخراجات کا ایک عام خاکہ پیش کرنے کے لئے گذشتہ سات سال کی ایک