تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 177 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 177

122 کی کسی علاقہ میں کون کون سی فصل ہو سکتی ہے اور اس فصل کے بڑھانے کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔پھر اس کے اوپر ایک افسر ہو جو اس کی نگرانی کرے اور دیکھے کہ اس پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں۔گویا جیسے کو آپریٹو سوسائٹیاں ہوتی ہیں۔اسی طرح ایگلریکلچرل سوسائٹیاں بنائی جائیں اور سارے احمدی ممبر و عدہ کریں کہ ہمیں جو ہدایتیں دی جائیں گی ہم اُن کی تعمیل کریں گے۔انہیں بتایا جائے کہ اتنے ہل دینے ضروری ہیں۔خلاں فلاں موقع پر اتنے ہل دیتے ہیں۔فلاں موقع پر پانی دینا ہے۔اتنے پانی دیتے ہیں۔فلاں بیچ ہونا ہے۔اور فلاں فلاں فصل ہوتی ہے پھر جس طرح چندے کی وصولی ہوتی ہے۔اسی طرح باقاعدگی سے یہ کام کروائیں۔ہمارے سب سے زیادہ احمدی سیالکوٹ میں ہیں اور اس وقت تو جو وکیل الزہراعت ہیں وہ بھی سیالکوٹ کے ہی رہنے والے ہیں۔یعنی چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ اور اسی طرح سید عبدالرزاق شاہ صاحب جو نائب وکیل ہیں نہایت ذہین اور ہوشیار نوجوان ہیں وہ سیالکوٹ کے باشندے تو نہیں لیکن اُن کے واللہ ساری عمر سیالکوٹ میں تو کر رہے ہیں۔وہ بدوملہی کے پاس رعیہ میں ہوتے تھے۔وہیں یہ پیدا ہوئے تھے۔اگر سید عبدالرزاق شاہ صاحب اور چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے ہوتے ہوئے سیالکوٹ کے زمینداروں کی طرف توجہ نہ کی جائے تو کتنی افسوس کی بات ہے لیکن اس کے بعد پھر لائل پور اور سرگودھا وغیرہ میں کوشش کی جائے۔۔۔۔۔۔عرض زمینداروں کی حالت کو سدھارنا انجمن کا کام ہے۔اُن کا فرض ہے کہ وہ فورا ایک نظارت زراعت بنائیں اور تحریک والے بھی انجمن کے ساتھ ہی جائیں کہ بے شک وہ وکیل الزراعت ہیں۔لیکن اگر بعض صیغوں کو ملا دیا جائے تو اس سے فائدہ ہو سکتا ہے اور وہ بڑا اچھا کام کرنا جانتے میں خود اچھے بڑے زمیندار ہیں نواب محمد دین صاحب کے بھتیجے ہیں اب ان کے لائل پور میں مریعے ہیں اور ولایت میں بھی رہے ہیں۔میرے نزدیک وہ ان باتوں کو سمجھتے ہیں۔اور سید عبدالرزاق شاہ صامت کو بھی میں نے دیکھا ہے ان معاملات میں بہت ہی سمجھدار ہیں ان کو میں نے سندھ میں زراعت پر لگایا ہوا تھا۔وہ ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔پھر وکالت کے پاس زراعت کا ایک گر یجو ٹیسٹ بھی ہے۔اس نے لائل پور کا لج میں زراعت کی تعلیم حاصل کی ہے۔اس نے زندگی وقف کی ہوئی ہے۔بے شک ے۔حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب سے نقل مطابق اصل۔