تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 174 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 174

۱۷۴ (ج) " میں نے دیکھا ہے کہ طبیعت پر ذرا بھی اثر ہو تو لوگ دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں کراچی میں میرا ریپشن ) RECEPTION ) ہوا تو اس کے بعد ایک ڈیپارٹمنٹ کے انڈر سیکرٹری نے اپنے ایک احمدی کلرک کو بلایا اور اس کو پچاس روپے دیئے کہ یہ اپنے حضرت صاحب کو بھیجوا دو کہ میری طرف سے کہیں دے دیں۔میں نے کہا غیر احمدی کا چندہ ہے کہیں دینے کا کیا مطلب ہے اشاعت اسلام میں ہی جانا چاہیے اور یہی اس کا حق ہے چنانچہ میں نے وہ روپیہ اشاعت اسلام کے لئے تحریک جدید میں بھیجوا دیا اسے بھی اطلاع دی گئی وہ بڑا خوش ہوا اور کہنے لگا کہ بڑی اچھی جگہ چندہ بھجوایا ہے۔اس طرح میں نے سکینڈے نیوین مشن کی تحریک کی اور اس کے بعد میں لاہور گیا تو چودھری اسد اللہ خان صاحب نے اڑھائی ہزار یا نہ معلوم کتنی سہ تم میرے ہاتھ میں دی اور کہنے لگے کہ اس میں سے ساڑھے پانچ سو روپیہ چندہ ایک غیر احمدی کا ہے وہ کہنے لگے کہ جب اس کو پتہ لگا کہ یہ تحر یک اشاعت اسلام کے لئے ہے، تو اس نے خود آ کر چندہ دیا اور کہا کہ یہ میری طرف سے بھی دے دیں۔تو اگر ان لوگوں کو تحریک کی جائے تو وہ تو کروڑوں کروڑ ہیں۔ان کروڑوں کروڑ میں سے اگر صرف ایک کروڑ میں سے تمہیں پچاس پچاس بھی ملیں تو پچاس کروڑ تو تمہارا مانگا ہوا چندہ ہو سکتا ہے خواہہ کمال الدین صاحب کو نہیں نے دیکھا وہ بغیر احمدیوں سے چندہ لیتے تھے اور دو دو لاکھ روپیہ سال کا چندہ ہو جاتا تھا۔ان کے ساتھی تو بہت کم تھے۔ہمارے ساتھی تو خدا تعالیٰ کے فضل سے سارے پاکستان اور مہندوستان نہیں پھیلے ہوئے ہیں اگر ہر احمدی یہ عادت ڈال لے کہ اپنے دوست کو کہے کہ یہ اشاعت اسلام کا کام ہے۔اگر اسلام تمہارا بھی ہے اور تم کو اس سے محبت ہے تو تمہیں کون روکتا ہے۔تم بھی یہ عزت حاصل کرو اور اس ثواب میں شامل ہو جاؤ تو میں سمجھتا ہوں کہ تھوڑی سی تحریک سے بھی چندہ اُسکتا ہے اور پھر جو ایک دفعہ دے گا اس کو چاٹ پڑ جائے گی اور پھر وہ ہر سال دے گا۔پہلی دفعہ تو آپ کو پندرہ منٹ اس سے بحث کرنی پڑے گی کہ دیکھو یہ خدا اور رسول کا کام ہے۔دین کی اشاعت کا کام ہے اس میں حقہ لو۔لیکن اگلے سال وہ خود تمہاری تلاش کرے گا اور تمہیں آئے ڈھونڈے گا اور کہے گا کہ میرا چندہ لو ے روز نامه الفضل بریوه ۱۵ فروری ۹۵۶ه ۵۱۲