تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 171 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 171

پھر فرمایا : ملاقاتیں مختصر کی گئی ہیں۔امید ہے کہ دوست اس کی پر واہ نہیں کہ لیں گے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں تو ملاقاتیں ہوا ہی نہیں کرتی تھیں۔آپ سیر کو جانتے تھے تو دوست دیکھ لیتے تھے اور اگر بعض کو موقع لتا تو مصافحہ بھی کر لیتے تھے۔تقریر یں بھی مختصر ہوتی تھیں۔۔۔۔حضرت مسیح موعود کی آخری جلسہ کی تقریر مجھے یاد ہے پچاس یا پچھ منٹ کی ہوئی تھی۔اور ہم بڑی باتیں کرتے تھے کہ آج بڑی لمبی تقریہ ہوئی ہے۔اور جماعت میں بڑا شور پڑا کہ آج حضور نے بڑی تقریر کی ہے۔آپ لوگوں کو چھ چھ گھنٹے سننے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔آپ میں بچیں یا نہیں منٹ کی تقریہ ہو تو بڑے مایوس ہو جاتے ہیں کہ بہت چھوٹی تقریر ہوئی ہے لیکن اصل تقریر تو وہی ہے جس کو آپ اپنے دل میں رکھ لیں۔جو میرے منہ سے نکل کر ہوا میں اُڑ جائے وہ کوئی تقریر نہیں چاہے ، وہ اکٹھ گھنٹےکی ہو یا نہیں گھنٹے کی ہو اور جو آپ اپنے دل میں رکھ لیں وہ پانچ منٹ کی بھی بڑی۔تورہ کے روز نامہ " نوائے وقت" نے اس تقریر کا خلاصہ درج ذیل پریس نوٹ | الفاظ میں نائع کیا :۔مرته البشیر الدین محمود کی نظریہ" لا بوده - ۲۷ دسمبر فرقہ احمدیہ کے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے آج بین الاقوامی احمدی کانگرس کے تو میں سالانہ اجلاس کا افتتاح کر تے ہوئے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کو اپنا شعار بنا ئیں۔دن ۲۷ دسمبر کی ایمان افروز تقریر در سری وی کی ایمان افرونه تقریر میں عور نے نے جماعت کو ہدایت فرمائی کہ خدمت خلق کے کام کو پوری توجہ سے جاری رکھیں۔رسالہ " ریویو آف ریلیجینز کی اشاعت دس ہزار تک پہنچانے کی کوشش کریں۔سکنڈے نیویا میں مشن کھولا جا رہا ہے اس کے لئے مالی قربانیاں پیش کریں۔زمیندار محنت سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور فصل کے لئے ہمیشہ اچھا بیچ اور عمدہ کھاد استعمال کریں۔روز نام الفضل ربوه ۱۰ فروری امت ہے۔روزنامہ نوائے وقت " ۲۹ دسمبر دار ما