تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 170 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 170

16۔کریں کہ اللہ تعالیٰ ہندوستان اور پاکستان کے رہنے والوں کو اسلام میں بھی متحد کر دے اور ساگر ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہو جائیں۔دوسرا امر یہ تھا کہ حضور سے ملاقاتوں کے اوقات طبی مشورہ کے مطابق کم کر دیئے گئے ہیں احباب کو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔یہ دونوں امور ذیل میں حضور ہی کے مبارک الفاظ میں درج کئے جاتے ہیں :- " b ہندوستان میں چالیس کروڑ کی آبادی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے اور ہمیں ایک کروڑر بھی ان میں سے مل جائے تو قادیان کی آبادی کے لئے یہ بڑا کانی ہو جاتا ہے مگر ہم تو اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک کروڑ کہتے ہیں۔ورنہ چالیس میں سے اکتالیس ملنے چاہئیں۔چالیں تو وہ جواب ہے اور۔ایک وہ جو اس وقت تک پیدا ہو جائے گا۔سو اللہ تعالیٰ فضل کری کے اگر آب احمدیت اور اسلام کو اس ملک میں پھیلا دے تو یہ جو کہ اسی روکیں ہیں یہ آپ ہی آپ دُور ہو جاتی ہیں۔اگر سارے دل اکٹھے ہو جائیں، سارا ہندوستان مسلمان ہو جائے تو پاکستان اور ہندوستان کا دل ایک ہو جائے گا۔آج تو لوگ کہتے ہیں ہندوستان میں یہ نظریہ پاکستان کے خلاف ہوئی اور مہندوستان والے کہتے میں پاکستان میں یہ تقریر سند داستان کے خلاف ہوئی۔لیکن اگر دونوں کے دلوں میں ایمان پیدا ہو جائے اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں تو ایک دوسرے کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پس دُعا کہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اس طرح دلوں کو آپس میں صاف کہہ دے کہ ایک دوسر کے حقی بھی مل جائیں اور پھر ایمان میں بھی متحد ہو جائیں اور سارے میں محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے خادم ہو جائیں اور سب ہی ہم کو پیارے ہو جائیں کیونکہ اصل حکومت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ہندوستان میں قائم ہو جائے تو پاکستان اور مہندوستان کے اختلافات آپ ہی ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی حکومت میں کوئی بارڈر نہیں وہ ماہی ایک ہے ہم تو کسی نہ مانہ میں ایک دھنی تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ میرے مذہب میں کالے گورے کی کوئی تمیز نہیں۔ایرانی اور رومی اور عرب میں کوئی تمیز نہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ ان سب کو مسلمان بنا دے اور خدا تعالے سے یہ کوئی کبھی بات نہیں تو سارے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں اور ہمارے دونوں ملک اتحاد اور اتفاق کے ساتھ بہت سی ترقیات حاصل کر سکتے ہیں جو اس اختلاف کے ساتھ نہیں حاصل کر سکتے ہے سوز امر الفضل ربوده ، فروری شده ست۔