تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 167
142 خاندانوں میں ہے کہ آرہے ہیں، اس سلسلہ کے لئے بھی دعا کرو اور ان لوگوں کے لئے بھی دیا کہ وجی کو خدا تعالیٰ نے پہلے احمدیت کی خدمت کی توفیق دی تھی۔کہ اللہ تعالیٰ ان کے خاندانوں کو بھی اس کی توفیق دیتا رہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعد میں آنے والے مومن ہمیشہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں بھی بخش اور ان کو بھی بخش جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں تو ان لوگوں کا بھی حق ہے کیونکہ ان کے ذریعہ سے ہی ایمان آپ تک پہونچا ہے اس طرح آپ لوگ کوشش کریں کہ خدا تعالیٰ آپ میں ایمان قائم رکھے اور ایسا ایمان قائم رکھے کہ وقف کے ذریعہ سے جماعت کی ترقی کے لئے آپ لوگ ہمیشہ کوشاں رہیں۔بے شک خدمات کے کئی ذرائع ہیں۔قومی طور پر تو یہی ذریعہ ہے کہ اپنے ایمانوں کو مضبوط رکھا جائے۔جیسے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سارے لوگ وقف نہیں کر سکتے کچھ لوگ کر سکتے ہیں۔سارے لوگوں کا وقف نہیں ہے کہ تمام لوگ ایمانوں کو پختہ رکھیں اور اپنی قربانی کو بڑھاتے چلے جائیں۔اگر سارے لوگ اپنے ایمانوں کو پختہ نہ رکھیں اور قربانی نہ بڑھاتے چلے جائیں تو وقف کرنے والے کھائیں گے کہاں سے اُن کے کھانے پینے کا تبھی سامان ہو سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق دیتا چلا جائے اور اس کے چندے پڑھتے چلے جائیں آختہ بہ سلسلہ بڑھے تو ہمیں دس پندرہ ہزار وافقتین چاہیں۔ملک کا معیار زندگی اتنا بڑھتا چلا جاتا ہے کہ جو اچھی دینی یا دنیوی تعلیم والے ہوں گے ان کو اپنے ہمسایوں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم چار پانچ سو روپیہ ماہوار کی ضرورت ہوگی اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ اگر دس مترابہ دافقین ہوں تو چالیس پچاس لاکھ روپیہ ماہوار کی آمدن ہوتی چاہیے۔یعنی چھ کروڑ روپیہ سالانہ۔تب جا کے اتنے واقفین مل سکتے ہیں جو سلسلہ کی ساری ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔اگر آ لوگ اپنی نسلوں میں یہ احساس پیدا کر یں کہ تم میں سے جو وقف کرے دوسرے لوگ اس کی خدمت کیا کریں تو یہ کام بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اپنے چندے بڑھاؤ اپنے دوستوں کے بھی بڑھواؤ اور جو غیر احمدی دوست ہیں ان سے بھی چندے تو ان میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔جن کے اندر دین کا درد ہے مجھے یاد ہے میر محمد الحق صاحب مرحوم جب بچے تھے حضرت خلیفہ اول نے میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو جو ہمارے نانا تھے فرمایا کہ اسحق کو میرے پاس بھیجا کہیں نہیں اس کو قرآن حدیث پڑھاؤں گا۔وہ تھے تو اہل حدیث مگر طبیعت بڑی خوشی تھی کہنے