تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 166 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 166

194 اسی تسلسل میں حضور نے اگلے روز مزید بتایا کہ : بڑی مشکل یہ ہے کہ سب سے زیادہ اثر اس بیماری کا میری آنکھوں پر پڑا ہے شرع به مطلب میں تو اس کا پتہ بھی نہیں لگا لیکن آہستہ آہستہ پتہ لگا۔آپ نہیں پڑھ نہیں سکتا ، یہ نہیں کہ حرف نظر نہیں آتے۔حرف تو نظر آتے ہیں بلکہ آپ بھی اگر پڑھنے والی عینک لگا لوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔بغیر عینک کے مجھے زیادہ آرام رہتا ہے لیکن طبیعت میں پریشانی شروع ہو جاتی ہے۔لائل پور میں ایک بڑے لائن ڈاکٹر ہیں۔نہیں نے ان کو یہاں بلوایا اور کہیں نے کہا کہ دیکھئے میں نے قرآن شریف کا ایک سیپارہ ہی پڑھا تھا کہ میری طبیعت گھبرا گئی۔اس بے چارے کو تو قرآن شریف پڑھنے کی عادت نہیں تھی کہنے لگا ایک سیپارہ یہ تو بڑی چیز ہے۔کہیں نے کہا آپ میرا حال تو نہیں جانتے میں نے تو تندرستی میں بعض دفعہ رمضان شریف میں پندرہ پندرہ سولہ سولہ سیپارے ایک سانس (میں) پڑھے ہیں۔پس میری تو ایک سیپارہ پر گھبراہٹ سے جان نکلتی ہے کہ مجھے ہو کیا گیا ہے کہ یا تو پندرہ سولہ سیپارہ پڑھنے اور ساتھ ہی زبان سے بھی پڑھتے جانا اور آنکھوں سے بھی دیکھتے جانا اور کجا یہ کہ ایک سیپارے کے ساتھ ہی گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔وہ بے چارہ اس پر کہنے لگا کہ یہ تو بہت بڑا کام ہے یہ اس تفصیل کے بعد حضور نے نہایت زور دار اور پر شوکت الفاظ میں وقف زندگی کی تحریک کی طرف متوجہ کیا۔چنانچہ فرمایا :- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے فرمایا ہے کہ مجھے سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تین سو سال تک تمہاری جماعت بڑی طاقتور اور مضبوط ہو جائے گی۔تین سو سال کا عرصہ بڑا لمبیا عرصہ ہے یوں تو مومن کو قیامت تک کے لئے عزم کرنا چاہیے لیکن کم سے کم تین سو سال تک تو ہاری آئندہ نسلوں کو یہ عزم کرنا چاہئیے کہ یکے بعد دیگرے ہم سلسلہ کا بوجھ اُٹھاتے چلے جائیں گے اور اسلام کی اشاعت میں کوئی کوتا ہی نہیں کریں گے۔اس وقت یکیں دیکھتا ہوں کہ نئے خاندانوں میں سے تو لوگ وقف کی طرف آرہے ہیں مگر پرانے روزنامه الفضل ريوه ۱۴ فروری ۱۹۵۶ ص۴) i