تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 165
۱۶۵ وہ ہو ہماری چلی گئی ہے۔لیکن آپ اپنے نفس پر قابو کر کے اسے بھلا دیں۔گو آپ کے لئے یہ مشکل ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی صحت پہلے بہت اچھی تھی ایک دم جو آپ آکے ناکارہ ہو گئے تو جو صدمہ آپ کے دماغ کو پہنچا ہے اس کی وجہ سے آپ ہماری کو بھلا نہیں سکتے مگر کوشش کریں کیونکہ علاج یہ علاج نہیں ہے جس دن آپ اپنی طبیعت پر غالب آجائیں گے۔جہاں تک جسمانی مرض کا سوال ہے وہ ختم ہو جائیگی۔بہ بہت بڑا فرق ہے جو میری صحت میں واقعہ ہوا۔کجا بارہ مہینے پہلے کی حالت اور کجا آج کی حالت۔سوائے اس کے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض دفعہ ایسا وقت بھی آتا ہے کہ میں اپنے آپ کو بالکل تندرست محسوس کرتا ہوں۔پچھلے مہینے میں تو میر کے آخر میں یا دسمبر کے شروع میں پندرہ دن ایسے رہے کہ میں کمرہ میں ٹہلتا تھا آخر ٹہلنا پڑتا ہے کیونکہ گھبراہٹ ہوتی ہے اور یہ بھی غالباً اس بیماری کے کو نتیجہ میں ہے کہ چونکہ پہلے چلنا پھرنا بند ہو گیا تھا۔طبیعت اندرونی طور پر محسوس کرتی ہے کہ میں چل کے دیکھوں کہ چل سکتا ہوں یا نہیں تو ٹہلتا ہوں اور ٹہلتا چلا جاتا ہوں یہاں تک کہ پیر تھک جاتے ہیں عرض پندرہ دن ایسے رہے کہ میرا د مارغ با لکل یوں محسوس کرتا تھا کہ اس پر کوئی بوجھ نہیں اور نماز میں مجھے بھولنا بھی بند ہو گیا تھا۔شروع شروع میں جب میں کراچی گیا ہوں تب تو یہ حال تھا کہ پاس آدمی بیٹھتے تھے جو بتاتے جاتے تھے کہ آپ سجدہ کر یں اب سجدہ سے اُٹھیں۔یہاں بھی آکر کچھ تھولا مگر پھر ٹھیک ہو گیا مگر اس کے بعد پھر یہی کیفیت ہو گئی جس پر میں نے اپنے ساتھ ایک آدمی کھڑا رکھنا شروع کیاکہ تم کھڑے ہو جاؤ گے تو مجھے پتہ لگ جائے گا کہ کھڑا ہوتا ہے بیٹھ جاؤ گے تو مجھے پتہ لگ جائے گا کہ مجھے بیٹھنا ہے۔مگر آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ نے طبیعت پر ایسا قا بو دے دیا کہ بغیر اس کے بیٹھنے یا قطع نظر اس کے کھڑا ہونے کے نہیں آپ ہی آپ کھڑا ہو جاتا تھا اور رکوع کرتا تھا اور تشہد پڑھتا تھا اسی طرح گھر میں نماز پڑھتا ہوں تو بیوی کو بٹھا لیتا ہوں کہ دیکھتے جانا میں غلطی تو نہیں کرتا۔مگر کئی دفعہ ایسے وقت بھی آتے ہیں کہ نمازہ بالکل ٹھیک پڑھتا ہوں اور کوئی بات نہیں بھولتی ہیں سمجھتا ہوں کہ یہ محض دعاؤں کا نتیجہ ہے اور دعاؤں کے ساتھ ہی اس کا تعلق ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے خواب میں بھی یہی بتایا ہے۔ه روزنامه الفضل ریوه ۱۰ / فروری ۱۹۵۶ء ص۳۱۳