تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 164 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 164

کتنا عظیم الشان فرق بارہ مہینے میں پڑا ہے۔بارہ مہینے پہلے میں بالکل تندرست تھا مگر اس کے بعد یکیں ایک سخت بیماری میں مبتلا ہوا جس کے اثرات اب تک باقی ہیں اس بیماری کا جو ظاہری جسمانی حصہ پہ اثر تھا۔اس میں تو کمی ہے۔ہاتھ پیر ہلاتا ہوں ، چل لیتا ہوں۔لیکن ابھی کئی قسم کے اثرات باقی ہیں مثلاً نظر بہت کم کام کرتی ہے۔گو ڈاکٹر کہتے ہیں موتیا بند نہیں ہے لیکن کوئی اعصابی مرض ہے بھوڑا سا بھی پڑھوں تو سر چکرا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے سارا دن گھبراہٹ میں گذرتا ہے۔جب تک میری بیوی مجھے ڈاک وغیرہ شناتی رہے یا قرآن شریف کے نوٹ لکھتی رہے طبیعت ٹھیک رہتی ہے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ کئی ڈاکٹروں نے حتی کہ یوروپین ڈاکٹروں نے بھی جو دین کے اتنے قائل نہیں کہا کہ آپ کی صحت معجزانہ ہے۔حالانکہ وہ دین کے قائل نہیں ہیں مگر اُن کے منہ سے بھی ایسا فقرہ نکل گیا۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جرمنی میں ایک ڈاکٹر مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ YOUR CURE WAS MIRACULOUS ** اسی طرح یہاں کے بھی کئی ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ ایک معجزانہ بات تھی۔اب اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس معجزہ کو کامل کر دے اور وہ جو اب تک میرے دماغ پر بوجھ ہے اس کو دور کر دے۔۔۔میری بهاری زیادہ تر اعصابی رہ گئی ہے جہاں تک اصل بیماری کا سوال تھا، ڈاکٹروں کا یہی خیال ہے کہ وہ جا چکی ہے۔صرف اعصابی تکلیف باقی ہے چنانچہ سوئٹزر لینڈ کا ایک مشہور ڈاکٹر جسے بوسٹن میڈیکل کالج امریکہ والے بھی (جو وہاں کا بڑا بھاری کالج ہے ) تقریر کے لئے بلایا کرتے ہیں۔اور جس کے متعلق ہمارے دوستوں نے بھی وہاں سے مشورہ کر کے تار کے ذریعہ ہمیں لکھا تھا کہ اسے ضرور دکھاؤ اس کا فقرہ یہ تھا کہ آپ یہ ہماری آپ کے اختیار میں ہے آپ زور لگائیں اور بھول جائیں۔نہیں نے کہا کہ میں بھولوں کس طرح اس کا بھی علاج بتاؤ کہنے لگا اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی صحت بیماری کے حملہ سے پہلے بہت اچھی تھی اب ایک دم اس چیز میں جو کمی آئی ہے وہ آپ کو بہت محسوس ہوتی ہے اور آپ اس کو بھلا نہیں سکتے پھر جب میں اُٹھا تو یوروپین لوگوں کے طرز کے مطابق میرے سینے کی طرف اپنا ہاتھ کر کے اور انکلی ہلا کر کہنے لگا کہ میری نصیحت آپ کو یہ ہے کہ BE OPTIMISTIC - BE OPTIMISTIC اپنی امیر مضبوط کرو۔پھر یہ بیماری جاتی رہے گی۔وہ کہنے لگا جہاں تک طبی سوال ہے میرے نزدیک