تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 163
سونے والو جلد جاگو یہ نہ وقت خواب ہے : جو خبر دی وجی حق نے اس دل بستیاب ہے کچھ احباب پہلے ہی جاگے ہوتے اور کچھ ان پر درد اشعار کو سُن کر جاگ اٹھتے۔بہت سے نوجوان بیت الدعا کے باہر انتظار میں کھڑے نظر آتے۔بعض اس مبارک کمرہ میں سربسجود دکھائی دیتے نماز تہجد مولوی شریف احمد صاحب امنیتی پڑھاتے اور نماز فجر حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب امیر جماعت کی اقتدا میں ادا کی جاتی۔بعد ازاں درس ہوتا اور پھر بہشتی مقبرہ کی سڑک پر احمدیت کے پروانوں کا تانتا بن بعد جا تا ہے اور حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کا مزائیہ مبارک حضور کا شہ نشین اور مقام بعیت خداست اولی اُن کی دُعاؤں کے خصوصی مراکز بن جاتے تھے۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم فرزند جلیل کی اس فت پیشگوئی کا حیرت انگیز ظہور تھا کہ إلي أموتُ وَلا يَمُوتُ مُحَبَّتِيْ : يُدْرَى بِذِكْرِكَ فِي التَّرَابِ يَدَالله یں تو مر جاؤں گا۔مگر میری محبت نہ مرے گی۔بلکہ قبر میں سے بھی تیری یاد کی ندا پائی جائے گی۔۳۰ دسمبر کو قافلہ کی واپسی کا دن تھا۔جلسہ گاہ کے دروازہ کے سامنے بس قافلہ کی واپسی پر سامان لادا گیا۔زائرین نے درویشوں کے ساتھ مل کہ دیما کی حسین کے بعد قافلہ پولیس کی معیت میں نعرہ ہائے تکبیر اور اسلام زندہ باد کے درمیان واپس روانہ ہوا۔اور اسی دن بخیر بت پاکستان پہنچ گیا سیکھے ریوں کا سالانہ جملہ اور حضرت مصلح موعود کی جلسہ سالانہ قادیان کے کوائف کے بعد آب لیتا ہے ریوں کی تفصیلات دی جاتی ہیں۔ایمان افروز تقریریں سید نا حضرت مصلح موعود نے ملالت طبع کے باوجو د حسب معمول سالانہ جلسہ کے اس مبارک اجتماع سے بھی تین بارہ خطاب فرمایا۔۱ افتتاحی تقریر (۲۶ / دسمبر ۱۹۵۵ء) میں حضور نے سر سے پہلے اپنی بیماری کا بالتفصیل ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ له روزنامه الفصل میوه در نوری ش الامت مضمو هوندو غلام باری صاحب سیف بنوان" کوائف ادیان "۔من الرحمن " فلا تألیف شد سے روزنامه الفضل ربوه مورخه ۱۳ جنوری ۹۵۶ و مده '