تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 158
۱۵۸ کرا دیا۔اب قافلہ پوری رفتار سے روانہ ہوا۔پولیس کی موٹر کبھی قافلہ کی بس سے آگے ہوتی اور کبھی پیچھے۔میں بارش کی تباہ کاریاں نمایاں تھیں۔ابھی تک زمین کا اکثر حصہ ناقابل کاشت معلوم ہوتا تھا۔کوئی کھڑی فصل نظر نہ آتی تھی۔زمین ابھی پورے طور پر خشک نہ ہوئی تھی۔امرتسر سے گذر کر تھا کتھونگل کے پاس قافلہ کا معلوم ہوایس کا ایک ٹائر پنکچر ہو چکا ہے۔ڈرائیور اس کو درست کرنے لگا۔امیر قافلہ نے فیصلہ کیا کہ ظہر و عصر کی نمازیں یہیں ادا کر لی جائیں۔وہاں تھانہ کے اندر واٹر پمپ پر وضو سے فارغ ہونے کے بعد اذان دی گئی۔بغیر مسلم اصحاب کو اچنبھا معلوم ہوا ہو گا۔لیکن اس وقت اہل قافلہ پر رقت طاری تھی۔اردگرد سے غیر مسلم بچے اور نوجوان اذان کی آواز شنکر جمع ہوگئے۔احمدیوں کو امیر قافلہ نے نہایت رقت سے نماز پڑھائی۔زمانہ سے تاریخ ہونے کے بعد قافلہ پھر روانہ ہوا۔بٹالہ پہنچ کہ موٹریں ریکیں ، جہاں متعد دغیر مسلم احباب سلمانوں کو دیکھنے کے لئے بس کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔بٹالہ سے روانہ ہو کہ جو نہی قادیان کے قریب پہنچے اور منارة المسیح نظر آیا تو ارکان قافلہ کی آنکھ ہوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے اور سب کے ہاتھ دعا کے لئے آسمان کی طرف بلند ہو گئے۔قافلہ کی وہی کیفیت تھی جو جلسہ سالانہ ربوہ کے آخری روز دُعا کے وقت ہوتی ہے لیے W ڈلہ کے قریب آکر شرک ابھی زیر تعمیر تھی۔لہذا با وجود اس کے کہ سامنے قادیان نظر آنے کہا تھا۔لیکن سٹرک کی خرابی کی وجہ سے موٹر موڑ کاٹ کر قادر آباد کے پاس سے دارالا نوار کی سڑک پر سے ہوتی ہوئی حضرت مولوی عبد المغنی خانصاحب اور نیک محمد خانصاحب کے گھر کے درمیان مٹرک کے ایک جانب مہ کی جہاں صاحبزادہ مرزها و سیم احمد صاحب، حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب، جناب ملک صلاح الدین صاحب ناظر امور عامه جناب عبد الحميد ما جز صاحب ناظر بیت المال ، چوہدری سعید احمد صاحب محاسب اور دیگر بزرگان سلسلہ اور در دامین تشریف فرما تھے۔ایک درویش نے بلند آواز سے تین دفعہ اَهْلًا وَسَهْلًا وَمَرْحَبًا ما - سب سے پہلے مکرم شیخ بشیر احمد صاحب امیر قافلہ، اس کے بعد جناب سردار بشیر احمد صاحب نائب امیر اور پھر باری باری تمام افراد قافلہ موٹر سے اُترے۔مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں نے سامان انا را اور مدرسہ احمدیہ میں پہنچا دیا۔ساڑھے تجھے بجھے ہندوستانی ٹائم کے مطابق حجر پاکستان سے نصف گھنٹہ آگے ہے ، روزنامه الفضل ربوده ۱۰ جنوری ۱۹۵۶م من • !