تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 150 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 150

۱۵۰ انصار اللہ کا یہ پہلا سالانہ اجتماع اس لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا تھا کہ انصار اللہ نے یہ ایام غیر معمولی طور پر دعاؤں اور عبادت میں گزارے جن کی غیر معمولی قبولیت کا ذکر خود حضرت مصلح موعود نے ۲۰ نومبر کو خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں تقریہ کرتے ہوئے فرمایا۔اجتماع میں پہلے دن نماز مغرب وعشاء حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری نے پڑھائی اور دوسرے دن نماز ظہر وعصر میں امامت کے فرائض حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے نے ادا کئے۔مختلف اجلاسوں میں تلاوت قرآن مجید کی سعادت مکرم مولوی تاج الدین صاحب ، مولوی احمد خان صاحب نستیم د نائب قائد تبلیغ ) اور مکرم مولوی قمر الدین صاحب ( نائب قائد تعلیم و تربیت) کے حصہ میں آئی۔قرآن مجید، احادیث نبویہ اور درسی کتب حضرت مسیح موعود کے ذریعہ قرآنی حقائق و معارف اسلام کی برتری اور آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کا عدیم المثال مقام نمایاں طور پر راستے آجاتا اور روح پر سچ مچ وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔تقاصہ یہ کے موضوع بھی زیادہ تر ایسے مقرر کئے گئے تھے جس سے نفس کی اصلاح اور قلوب کا تزکیہ ہو۔دورانِ اجتماع سید نا حضرت مسیح موعود کا جب اردو اور فارسی منظوم کلام پڑھا جاتا تو قلوب و اذہان کے اندر ایک نئی روحانی تبدیل پیدا ہو جاتی جتماع کے پہلے اجلاس میں حضرت مصلح موعود کے ارشاد مبارک کے تحت نما نہ تہجد پڑھنے اور کثرت سے دعائیں اور استخارہ کرنے والے انصار کے اعداد و شمار جمع کئے گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے شامل اجتماع ہونے والے انصار کی نمایاں اکثریت ان امور کی پابند اور التزام کرنے والی پائی گئی۔الفرض مجلس انصار الله مرکز یہ کے اس تاریخی پہلے سالانہ اجتماع کے پروگرام میں تزکیہ نفس اور تربیت نفس کے پہلوؤں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا تھا اور انصار کی پر سونہ دُعاؤں اور عبادتوں نے ایک خاص روحانی ماحول اجتماع میں پیدا کر دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اجتماع میں اوّل سے آخر تک ایک پر کیف روحانی فضا چھائی رہی اور انصار یہ عزم لے کہ اُٹھے کہ وہ مجلس میں ایک نئی روح پیدا کر کے دم لیں گے۔اور حضرت مصلح موعود جی بلند روحانی مقام پر انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔خدا کی دی ہوئی توفیق پر یہاں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔لے لے ه ا ورا اترے سے یہ اجتماع سادگی اور مین انتظام کا بھی عمدہ نمونہ تھا۔انصاراللہ مرکزہ بہ کے ریکارڈ کے مطابق اس دس آنے چھ پائی تھے جن میںسے دو سو چھیالیس روپے چھے آنے چھ پائی کھانے اور بقیہ رقم سائبان وغیرہ پر خرچ ہوئی۔سے ملخص از الفضل ربوده ۲۲ ۲۳ ۲۴ فوت ۳ مطابق ۲۴۰۲۳۰۲۲ نومبر ۱۹۵۵ -