تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 148 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 148

۔۔اگلے سال اپنا سالانہ اجتماع اپنے دفتر کی عمارت میں کرنے کے قابل ہو سکیں۔نیز فرمایا چالیس سال کی عمر ہی ایسی ہوتی ہے جبکہ انسان کے جسمانی، ذہنی اور روحانی قومی پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔کوئی نبی ایسا مبعوث نہیں ہوا جسے چالیس سال کی عمر سے پہلے نبوت کے فرائض اللہ تعالی نے تفویض کئے ہوں۔پس انصاراللہ جوانی کی جماعت ہے۔انصار کو چاہیے کہ وہ جوانوں کی طرح ہی کام کریں اور ایسا کام کریں کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ کے آسمانی حکم کے تحت نیک کاموں میں خدام الاحمدیہ سے بھی سبقت لے جائیں۔دنیا اس وقت جہاں مذہبی صداقت کی محتاج ہے وہاں دنیوی صداقت کی بھی متلاشی ہے۔ہم نے اللہ تعالی کے فضل سے اپنی آنکھوں سے اللہ تعالی کی تائید و نصرت اور اس کے بغیر معمولی نشانوں کے نظارے دیکھے ہیں۔اس لئے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دنیا کو اسلام کی دعوت دیں۔اور وہ اخلاق ہم دنیا میں پھر پیدا کریں جو دنیا سے نا پید ہو چکے ہیں۔اس روح پرور خطاب کے بعد مندرجہ ذیل بزرگوں نے تقاریہ فرمائیں : -1- حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد ایم اے قائد عمومی (" انصار اللہ کا مطلب "۔-۲- مولانا ظہور حسین صاحب مبلغ بخارا نائب قائد مال ( درس حدیث " حضرت ابو البرکات مولانا غلام رسول صاحب را جیکی (محبت الہی ") ان تقاریر کے بعد یہ اجلاس نماز مغرب وعشاء اور کھانے کے لئے ملتوی ہو گیا اور پھر مجلس شوری کا انعقاد ہوا۔جس کی بقیہ کارروائی اگلے روز بھی ہوئی۔یہ شورکی قریبا چار گھنٹے تک جاری رہ ہی جس میں مجلس کے لائحہ عمل ، اُس کی تنظیم اور پروگرام سے متعلق نہا یت دور رس اور اہم فیصلے کئے گئے مثلاً مجلس انصاراللہ کا سالانہ اجتماع دس اکتوبر کے بعد کسی جمعہ اور ہفتہ کو منعقد کیا جائے اور یہ تاریخی مجلس خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے ایام میں نہ ہوں۔انصار اللہ کا ضلعوار نظام قائم کیا جائے۔انصار اللہ کے لئے بھی کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ششماہی امتحان کا انتظام کیا جائے۔دفتر انصار اللہ کی تعمیر کے لئے تین سال میں ہیں ہزارہ روپیہ بطور چندہ اس طریق سے مجمع کیا جائے کہ ہر رکن کم از کم ایک روپیہ سالانہ چندہ دے۔ہر مجلس کے ذمہ اُس کی تعداد کے لحاظ سے ایک رقم مقرر کر دی جائے جسے پورا کرنے کی وہ ذمہ دارنہ ہو۔شوری میں مجلس کے قواعد و ضوابط اور لائحہ عمل پر نظر ثانی کرنے کے لئے ایک بورڈ بھی مقرر کیا گیا۔اگلے دن 19 نومبر کو اجتماع کی کارروائی حسب معمول تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوئی۔جس کے بعد مندرجہ ذیل بزرگوں نے اجتماع سے خطاب فرمایا :-