تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 4
فصل اوّل مجلس مشاورت ۱۹۵۵ اِس سال جماعت احمدیہ کی چھتیسویں مجلس مشاورت کا انعقاد ۷، ۱۹۷۸ اپریل ۱۹۵۷ مهر (مطابق ۷، ۸، ۹ شہادت ۱۳۳ بیش ) کو عمل میں آیا۔یہ مشاورت بھی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں ہوئی اور اِس ہیں۔۳۰ پاکستانی نمائندگان کے علاوہ بعض بیرونی ممالک کی احمدی جماعتوں کے منڈوب بھی شامل ہوئے۔حضرت مصلح موعود ان دنوں سفر یورپ کے ارادہ سے کراچی میں قیام فرما تھے۔حضور کی ہدایت کے مطابق مجلس کی صدارت کے فرائض مکرم جناب مرزا عبد الحق صاحب امیر جماعتہائے احمدیہ صوبہ پنجاب نے انجام دئے۔یہ پہلا موقع تھا جبکہ یہ مرکزی تقریب حضور کی عدم موجودگی میں منعقد ہوئی اور اس نے ہر نمائندہ کو پوری شدت سے محسوس کرا دیا کہ امام وقت کا مبارک اور خدا نما وجود رکتنی بھاری برکات اپنے اندر رکھتا ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود المل و اتم درجہ پر فائز محبوبان درگاہ الہی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔" خدا کا نور اُن کی پیشانی میں اپنا جلوہ ظاہر کرتا ہے۔ایسا ہی اُن کے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اُن کا پہنا ہوا کپڑا بھی مشترک ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات کسی شخص کو چھونا یا اس کو ہاتھ لگانا اُس کے امراض روحانی یا جسمانی کے ازالہ کا موجب ٹھہرتا ہے۔اسی طرح اُن کے رہنے کے مکانات میں بھی خدائے عز و جل ایک برکت رکھ دیتا ہے۔وہ مکان بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے۔خدا کے فرشتے اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔اسی طرح اُن کے شہر یا گاؤں میں بھی ایک برکت اور خصوصیت دی جاتی ہے۔اسی طرح اس خاک کو بھی کچھ برکت دی جاتی ہے جس پر اُن کا قدم پڑتا