تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 140 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 140

دین سے بہتر ہے اور ہمارا رسول ان کے رسول سے افضل ہے، مگر یہودیوں کو فلسطین سے نکال دیا گیا تو وہ اسے دو ہزار سال تک نہیں بھولے بلکہ اتنے لمبے عرصے تک انہیں یہ یاد رہا کہ انہوں نے فلسطین میں دوبارہ یہودی اثر کو قائم کرنا ہے اور آخر وہ دن آگیا آپ وہ فلسطین پر قابض ہیں ہمیں اس بات پر غصہ تو آتا ہے اور ہم حکومتوں کو اس طرف توجہ بھی دلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو انہیں توجہ دلاتے رہیں گے کہ آپ یہ اسلامی علاقہ ہے یہودیوں کا نہیں۔اس لئے یہ مسلمانوں کو ملنا چاہیئے مگر ہم اس بات کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ یہودیوں نے دو ہزار سال تک اس بات کو یاد رکھا جو دوسری تو میں بعض دفعہ بیس سال یا سو سال تک بھی یاد نہیں رکھ سکتیں۔پس یاد رکھو کہ اشاعت دین کوئی معمولی چیز نہیں یہ بعض دفعہ جلدی بھی ہو جاتی ہے۔جیسے رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۲ سال میں ہو گئی اور پھر مزید اشاعت کوئی پچاس سال میں ہو گئی مگر کبھی کبھی یہ سینکڑوں سال بھی لے لیتی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ اس کام کے زمانہ میں اس نے ایک سو سال کا عرصہ لیا اور کبھی یہ ہزاروں سال کا مورد بھی لے لیتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو یہودیوں کا دنیوی نفوذ تو بہت کم عرصہ میں ہو گیا تھا لیکن دوسری قووت کی ہمدردی انہیں دو ہزارہ سال بعد جا کہ حاصل ہوئی۔جب لوگوں کو یہ محسوس ہو جاتا ہے کہ کوئی قوم اپنے آثار اور اپنی تعلیمات کو قائم رکھنے کے لئے ہر وقت تیار ہے اور آئندہ بھی تیار رہے گی تو اس قوم کے دشمن بھی اس کے ہمدرد ہو جاتے ہیں۔کیا یہ لطیفہ نہیں کہ عیسائیوں نے ہی یہودیوں کو فلسطین سے باہر نکالا تھا اور آب عیسائی ہی انہیں فلسطین میں واپس لائے ہیں۔دیکھو یہ کیسی عجیب بات ہے کہ آج سب سے زیادہ یہودیوں کے خیر خواہ امریکہ اور انگلینڈ ہیں اور یہ دونوں ملک عیسائیوں کے گڑھ ہیں۔فلسطین سے یہودیوں کو نکال بھی عیسائیوں نے ہی تھا مگر وہی آج ان کے زیادہ ہمدرد ہیں۔گویا ایک لمبی قربانی کے بعد ان کے دل بھی پسیج گئے۔پس ہمیشہ ہی اسلام کی روح کو قائم رکھو اس کی تعلیم کو قائم رکھو اور یاد رکھو کہ تو میں نو جوانوں کی دینی زندگی کے ساتھ ہی قائم رہتی ہیں۔اگر آنے والے کمزور ہو جائیں تو وہ قوم گر جاتی ہے، مگر کوئی انسان یہ کام نہیں کر سکتا۔صرف اللہ ہی یہ کام کر سکتا ہے انسان کی عمر تو زیادہ سے زیادہ ساتھ سنتر انتی سال تک چلی جائے گی مگر قوموں کی زندگی کا عرصہ تو سینکڑوں ہزاروں سال تک جاتا ہے۔دیکھو سیح علیہ السلام کی قوم بھی دور ہزارہ سال سے زندہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم تیرہ سو سال سے زندہ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جب تک دنیا قائم رہے گی یہ بڑھتی چلی جائے گی