تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 139 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 139

۱۳۹ ۱۹۵۵ء کو ریوہ میں منعقد ہوا۔اس اجتماع میں بیالیس مجالس کے آٹھ سو سات خدام نے شرکت کی۔مندرجہ ذیل دوشش بیرونی ممالک کے نمائندوں کو اس میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔انڈونیشیا۔برٹش شمالی لینڈ - چین - ٹرینیڈاڈ - شام۔ڈچ گی آنا۔عدن - مشرقی افریقہ - گولڈ کوسٹ دعانا )۔قادیان۔احمدی نوجوانوں نے تین روز تک اپنے خیموں میں مقیم رہ کہ اجتماعی عبادات ، ورزشی اور علمی مقابلوں تلقین عمل اور مجلس شوری کے اجلاسوں میں حصہ لینے کے علاوہ اپنے پیارے امام حضرت مصلح موعود کے دو ولولہ انگیز خطابات سے مستفیض ہونے کا شرف حاصل کیا۔افتتاحی خطاب میں حضور نے خدام اور انصار دونوں کو نہایت بیش قیمت ہدایات سے نوازتے ہوئے فرمایا ہے و آج انصار اللہ کی پہلی میٹنگ ہے۔انصار کسی جذبہ اور قربانی سے کام کرتے ہیں۔یہ تو آئنہ سال ہی بتائیں گے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کی دماغی نمائندگی انصار کرتے ہیں اور اس کے دل اور ہاتھوں کی نمائندگی خدام الاحمدیہ کرتے ہیں جب کسی قوم کے دماغ دل اور ہاتھ ٹھیک ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔پس میں پہلے تو انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ۔۔۔۔جماعت میں نمازوں ، دعاؤں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ان کو تہجدہ ذکر الہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہئے کہ نوجوان ان کو دیکھے کہ خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔اصل میں تو جوانی کی کمر ہی وہ زمانہ ہے جس میں تہجد دعا اور ذکر الہی کی طاقت بھی ہوتی ہے اور مزہ بھی ہوتا ہے لیکن عام طور پر جوانی کے زمانہ میں مونٹ اور عاقبت کا خیال کم ہوتا ہے۔اس وجہ سے نوجوان غافل ہو جاتے ہیں لیکن اگر تو جوانی میں کسی کو یہ توفیق مل جائے تو وہ بہت ہی مبارک وجود ہوتا ہے۔پس ایک طرف تو ہمیں انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نمونہ سے اپنے بچوں ، اپنے ہمسایہ کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں اور دوسری طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلانا ہوں کہ وہ اتنا اعلیٰ درجہ کا نمونہ قائم کریں کہ نسلاً بعد نسیل اسلام کی روح زندہ رہ ہے۔اسلام اپنی ذات میں تو کامل مذہب ہے لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ شہریت کے لئے بھی کسی گلائس کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اسلام کی روح کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کسی گلاس کی ضرورت ہے اور ہمارے قدام الاحمدیہ وہ گلاس ہیں جن میں اسلام کی روح کو قائم رکھا جائے گا اور ان کے ذریعہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے گا۔دیکھو آخر ہم بھی انسان ہیں اور یہودی بھی انسان ہیں۔ہمارا دین ان کے