تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 138
تعلق رکھتی ہے سو دوست دعا کریں۔اسی طرباً دنیا کے باقی ممالک میں ایک ایک دو دو کر کے مسلمان ہو رہے ہیں لیکن ایک ایک دو دو سے کیا بنتا ہے ضرورت یہ ہے کہ خدا تعالے بند توڑے۔اگر بند ٹوٹ جائیں اور ہزاروں لاکھوں آدمی احمدی ہونے لگیں تو ایک دو سال کے اندر ہر رنگ میں احمدیت اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ پھر قریب ترین زمانہ میں کوئی فکر کی صورت نہیں رہتی۔جب زیادہ تعداد میں لوگ مختلف ممالک میں احمدی ہو جائیں گے۔تو پھر کچھ عرصہ میں وہ اپنے آپ کو اور مضبوط کر لیں گے اور اس طرح بعید کا زمانہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔تو دعائیں کرو۔مجھے افسوس ہے کہ نوجوانوں میں جب جلسے ہوتے ہیں تب تو وہ نعرے لگا دیتے ہیں لیکن تہجد پڑھنے اور دعائیں کرنے کا رواج کم ہے حالانکہ تم سوچو تو سہی ہمارے ملک کی مثل ہے کہ کیا پڑی اور کیا پڑی کا شور یہ جو کام تمہارے ذمہ ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے تمہارے پاس طاقت ہی کہاں ہے اور دعا کے سوا تم کہ ہی کیا سکتے ہو۔دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جو تمام نا ممکن باتوں کو ممکن بنا دیتی ہے۔پس نوجوانوں کو خصوصا د گاؤں کی عادت ڈالنی چاہئیے بڑوں کو بھی یہ عادت ڈالنی چاہیئے۔مگر نوجوانوں کو خصوصا یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ کیا پڑی اور کیا پڑی کا شوربہ ملکہ تم تو پڑی سے بھی کم ہو تمہاری جان تو تبھی بیچ سکتی ہے کہ خدا باز کے دل میں رحم ڈال دے۔ایک پڑی اگر طاقت کے ساتھ باتہ سے لڑنا چاہے تو شائد سو میں سے نہیں ہزار میں سے ایک دفعہ ہی اس کا امکان ہے لیکن اگر وہ پڑی خدا کے آگے اسپیل کرے تو سو میں سے ۷۰ فیصدی امکان ہو سکتا ہے کہ باز کے پر ٹوٹ جائیں یا بانہ کی نیت بدل جائے یا باند کو کوئی اور زیادہ اچھا جانور نظر آجائے اور وہ اس پڑی کو چھوڑ کر ادھر بھاگ جائے تو یہ ساری چیزیں ہو سکتی ہیں۔پس دُعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں تمہاری محبت اور رحیم پیدا کرے تمہاری باتوں میں تاثیر دے اور تمہارے کاموں میں برکت دے اور سب سے زیادہ یہ کہ اسلہ تعلی تمہارے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرے کہ اس کے بعد وہ تمہاری باتوں کو رقہ نہ کر سکے بلکہ تمہاری دعائیں قبول کرنے لگ جائے یہی گر ہے تمہاری کامیابی کا۔اس کے سوا اور کوئی گر نہیں ہے " خدام الاحمدیہ کا اندر جوان ام ان حمید کا سال اجتماع اور حضرت مصلح موعود کے پر معارف خطابات سالانہ اجتماع ۱۸ ۱۹ ۲۰ نومبر لے روزنامه الفضل ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ء ص ۴۱۳