تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 135 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 135

۱۳۵ ساری معاشی ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہوتی ہیں۔ہماری ساری عائلی ضرور نہیں قرآن کریم سے پوری ہوتی ہیں۔ہماری ساری عقلی ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہوتی ہیں۔ہماری ساری سیاسی ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہوتی ہیں۔ہماری ساری اخلاقی ضروئیں قرآن کریم سے پوری ہوتی ہیں۔ہماری ساری روحانی ضرورت ہیں قرآن کریم سے پوری ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات قرآن کریم کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔اگر کوئی شخص نعوذ باللہ من ذالک حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الہامات کو قرآن کریم سے افضل یا اس کو رد کرنے والا مانے تو وہ قرآن کریم کی ان ساری تعلیموں کو آپ کے الہامات سے نہیں نکال سکتا۔گویا اگر کس شخص کا فی الواقعہ یہ عقیدہ ہو تو آپ کے الہامات نعوذ باللہ قرآن کریم کے قائم مقام ہیں۔تو وہ ان ساری برکتوں سے محروم ہو جائے گا جو قرآن کریم سے حاصل ہوتی ہیں۔آپ کے الہامات قرآن کریم کی تشریح تو ہیں۔اور قرآن کریم کی بعض مغلق باتیں جو آسانی سے سمجھ میں نہیں آسکتیں، آپ کے الہامات کی روشنی میں سمجھ آجاتی ہیں لیکن اگر ہم یہ سمجھیں کہ قرآن کریم کے سارے مضامین ان الہامات سے نکل آئیں گے تو یہ بالکل احمقانہ بات ہوگی۔قرآن کریم ایک جامع اور کامل اور تمام الہامی کتب سے افضل کتاب ہے اور ا مرزا صاحب کے الہامات قرآن کریم کے خادم ہیں۔اس لئے قرآن کریم میں تو سارے اخلاقی ، روحانی ، عقلی ، سیاسی ، معاشی ، اقتصادی اور ایمانی مضامین آگئے ہیں۔لیکن حضرت مرزا صاحب کے الہاموں میں پیغام مضامین بیان نہیں کئے گئے کیونکہ آپ کو الہام کرنے والا خدا جانتا تھا کہ تمام مضامین قرآن کریم میں آپکے ہیں۔اس لئے آپ انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے الہامات میں بھی کئی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں لیکن وہ قرآن کریم سے زائد نہیں بلکہ اس کی تشریح کے طور پر ہیں۔۔۔ہم جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا خادم اور علم سمجھتے ہیں ای طرح ہم آپ کے الہامات کو بھی قرآن کریم کا خادم یقین کرتے ہیں جس طرح خادم اپنے آقا کی چیزوں کی صفائی کرتا ہے اور ان کی نگرانی کرتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم پر سلمانوں نے اپنی غلط تشریحات کی وجہ سے جو گرد و غبارہ ڈال دی تھی حضرت میں موعود علی الصلوۃ والسلام کے الہامات اس گرد و غبار کو صاف کرتے ہیں۔لیکن کیا کوئی غلام اپنے آقا کی چیزوں کو اپنی طرف منسوب کر سکتا ہے یا وہ اپنے آپ کو اس سے افضل قرار دے سکتا ہے ؟ اس کا کام تو اپنے آقا کے کپڑوں کو صاف کرنا انہیں سنبھال کر رکھنا جوتے پالش کرنا اور دوسری خدمات بجالانا ہوتا ہے اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے الہاموں کا ایک خادم کی