تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 132 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 132

ا ما ہیں۔ایک تو میرے پوتے مرزا انس احمد کی ہے جو عزیزم مرزا ناصر احمد کا لڑکا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی نیت کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔انس احمد نے کہا ہے کہ میرا ارادہ تھا کہ میں قانون پڑھ کر اپنی زندگی وقف کروں لیکن آپ آپ جہاں چاہیں مجھے لگا دیں۔میں ہر طرح تیار ہوں۔ایک درخواست ہر سعد اللہ صاحب کی آئی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے ایم اے کا امتحان دیا ہوا ہے اس میں کامیاب ہوتے کے بعد آپ جہاں چاہیں مجھے لگا دیں۔تیسری درخواست باہر کے ایک لڑکے کی ہے جو ابھی چھوٹی جماعت کا طالب علم ہے۔نہیں نے اسے کہا کہ وہ میٹرک پاس کر کے جامعہ میں داخلہ لے کیونکہ جب تک جامعہ میں زیادہ طالب علم نہیں آئیں گے اس وقت تک شاہد بھی زیادہ تعداد میں نہیں نکل سکتے۔ہمارے اسکول کے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ لڑکوں میں وقف کی تحریک کریں اور انہیں سمجھائیں کہ تمہارا اعلی گزارہ تمہارے اپنے اختیار میں میں ہے۔اگر تم باہر جاؤ گے اور تبلیغ کرو گے تو تمہاری تبلیغ کے نتیجے میں جماعت بڑھے گی اور جماعت کے بڑھنے سے چندے زیادہ ہوں گے۔اور چندے زیادہ آئیں گے تو تمہارے گزارے بھی زیادہ اعلیٰ ہوں گے۔اگر یورپ کا کوئی حصہ ہی احمدی ہو جائے تو جماعت کے چندے کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔پس سکول کے اساتذہ اپنے سکول کے لڑکوں کو سمجھائیں اور پروفیبر کالج کے لڑکوں کو سمجھائیں اور باہر کے مبلغ اپنی اپنی جماعتوں میں چندہ دینے اور زندگی وقف کرنے کی تحریک کریں۔اس طرح چند مہینوں میں ہی کام کی رفتار تیز ہوسکتی ہے اور یہ صدی ہر قسم کے شیطانی حملوں سے محفوظ ہو سکتی ہے۔پھر جوں جوں جماعت بڑھے گی خدا تعالٰی اپنے فضل سے آئندہ بھی اس میں جوش پیدا کرتا چلا جائے گائیے ه روز نامه الفضل ربوه ۲۵ نوبه شه من