تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 131 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 131

بڑھ جائیں گے۔بہر حال دنیا اِس وقت اسلام کی آواز سننے کو منتظر ہے اور اس کے لئے ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو دین کی خدمت کے لئے آئیں اور اپنی زندگیاں اس کام کے لئے وقف کریں حضور نے خطبہ کے آخر میں خاندانی طور پر وقف کرنے کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : خاندانی طور پر اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کرو۔اور عہد کرو کہ تم اپنی اولاد در اولاد کو وقف کرتے چلے جاؤ گے۔پہلے تم خود اپنے کسی بچے کو وقف کرو پھر اپنے سب بچوں سے عہد لو کہ وہ اپنے بچوں میں سے کسی نہ کسی کو خدمت دین کے لئے وقف کریں گے۔اور پھر ان سے یہ عہد بھی لو کہ وہ اپنے بچوں سے عہد لیں گے کہ وہ بھی اپنی آئندہ نسل سے یہی مطالبہ کر یں گے۔چونکہ اگلی نسل کا وقف تمہارے اختیار میں نہیں اس لئے صرف تحریک کرنا تمہارا کام ہوگا، اگر وہ نہیں مانیں گے تومیران کا قصور ہو گا۔تم اپنے فرض سے سبکدوش سمجھے جاؤ گے اگر تم یہ کام کروگے اور یہ شرح جماعت میں نسلاً بعد نسل پیدا ہوتی چلی جائے گی اور ہر فرد یہ کوشش کرے گا کہ اس کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں واقف زندگی دین کی خدمت کے لئے جہیا ہو جائیں گے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کی تحریک فرمائی ہے۔تمہیں یہ بھی کوشش کرنی چاہئیے کہ تم میں سے شخص وصیت کرے اور پھر اپنی اولاد کے متعلق بھی کوشش کرے کہ وہ بھی وصیت کرے اور وہ اولاد اپنی اگلی نسل کو وصیت کی تحریک کرے۔یہ بھی دین کی خدمت کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہے۔اگر ہم ایسا کہ لی تو قیامت تک تبلیغ اور اشاعت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے؟ اس تحریک کے نتیجہ میں ابتداء میں حضور کی خدمت میں تین درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سر فہرست احبزادہ مرزا انس احمد صاحب کی درخواست تھی۔حضور انور نے ان درخواستوں کا اپنے خطبہ میں خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :- میں نے جماعت میں جو وقف کی تحریک شروع کی ہے اس کے بعد میرے پاس تین درخواستیں آئی له روزنامه الفضل ربوه ۲۵ نومبر ۹۵ و م۔له القامه ۱۹۵۵ء ۳۶ •