تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 130 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 130

ہیں گویا اس وقت چار غیر مسلم ایک مسلمان کے مقابل پر موجود ہیں۔اس کے متے یہ ہیں کہ جو کام نہیں ہو سال میں ہمارے آبا و اجداد نے کیا ہے اس سے چار گنا کام کی ہم سے اُمید کی گئی ہے لیکن اس کیلئے وقت کا لحاظ رکھنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے ورنہ غیر معین عرصہ میں تو بڑے بڑے کٹھن کام بھی ہو جاتے ہیں مثلاً دریاؤں کا پانی ہی جب ایک لمبے عرصہ تک پہاڑوں پر گرتا رہتا ہے تو اس کی وجہ سے بڑی بڑی فاریں بن جاتی ہیں اور جیالوجی والے کہتے ہیں کہ چونکہ دس دس ہمیں بیس لاکھ سال بلکہ کروڑوں سال سے یہ پانی گرتا رہا ہے اس لئے اب پہاڑوں میں بڑی بڑی غاریں بن گئی ہیں مگر انسانی زندگی اور انسانی سکیمیں اتنی لمبی نہیں ملتیں یا کم از کم تاریخ ہمیں کسی اتنی لمبی زندگی یا اتنے لیے عرصہ تک چلنے ولی سکیم کا پتہ نہیں دیتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تین سو سال میں احمدیت ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔اگر ایک نسل کے بیس سال بھی فرض کر لئے جائیں توتم سمجھ سکتے ہو کہ تین سو سال میں پوری پندرہ نسلیں آجاتی ہیں گویا اگر ہماری پندرہ نسلیں یکے بعد دیگرے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرتی چلی جائیں تب وہ کام پورا ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے۔مگر کیا حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کا یہ منشا تھا کہ اور لوگوں کی نسلیں تو اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کریں اور میری اپنی نسل وقف نہ کرے۔آخر جو شخص دوسروں سے کوئی مطالبہ کرتا ہے اس کی نسل سب سے پہلے اس مطالبہ کی مخاطب ہوتی ہے لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی نسل بد عہدی کرے گی تو یقیناً خدا تعالے دوسر لوگوں میں سے اسلام کے بہادر اور جان نثار سپاہی کھڑے کر دے گا۔چنانچہ دیکھ لو جب ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیات کام کی اولاد میں سے ایسے مشرک پیدا ہوئے جنہوں نے کعبہ میں بھی سینکڑوں بت رکھ دیئے تو دوسری طرف عراق کے علاقہ میں حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت جنید بغدادی" جیسے بزرگ پیدا ہوئے جنہوں نے دین کی بڑی خدمت کی اسی طرح ایک دوسرے ملک سے حضرت معین الدین صاحب چشتیہ آگئے اور انہوں نے اسلام پھیلا یا۔پس جہاں میں حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام کی اولاد کو توجہ دلاتا ہوں وہاں میں جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ تمہیں یکے بعد دیگرے کم از کم پندرہ نسلوں کو وقف کرنا ہو گا لیکن تم تو ابھی سے گھبرا گئے ہو اور ابھی سے تمہارا یہ حال ہے کہ جو شخص دین کی خدمت کے لئے آتا ہے اس کو یہ خیال آتا ہے کہ گزارہ کیسے ہو گا۔سیدھی بات ہے کہ روپیہ ہو گا تو گزارہ ملے گا اور روپیہ اس وقت آئے گا جب نئے احمدی نہیں گئے۔تم پچاس لاکھ احمدی لے آؤ تو تمہارے گزارہ خود بخود