تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 129
١٣٩ تمہارے لئے لا متناہی ترقیات کے دروازے کھلے ہیں اور تمہارا خدا بخیل نہیں تو یقیناً اس کا قرب تمہیں محسوس ہی نہیں ہو گا بلکہ تم اپنی روحانی آنکھوں سے اس کو دیکھنا شروع کر دو گے میرے اس جواب کا اس پر ایسا اللہ ہوا کہ وہ نماز کے بعد کئی گھنٹے تک مسجد میں بیٹھا رہا اور اس نے کہا مجھے اپنی ساری زندگی میں آج پہلی دفعہ یہ محسوس ہوا ہے کہ میرے لئے بھی ترقی کا راستہ کھلا ہے اور مجھے جو روحانی سرور اس سے حاصل ہوا ہے وہ پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا۔اسی طرح تم بھی خدا تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا کرو اور اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرو یہ مت خیال کرو کہ اس کے تمام انعامات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئے ہیں یا مسیح موعود پر ختم ہو گئے ہیں یا مجھ پر ختم ہوگئے ہیں۔اس کے انعامات کے دروازے تم سب کے لئے کھلے ہیں۔اگر تم ان دروازوں میں داخل ہو کر اس کے انعامات کو حاصل نہیں کرتے تو تم میں سے زیادہ بد قسمت اور کوئی نہیں لیکن اگر تم کوشش کرتے رہو اور اس کے انعامات پر یقین رکھو تو تم وہی کچھ حاصل کر سکتے ہو جو سید عبد القادر صاحب جیلانی اور شیلی اور معین الدین صاحب چشتی نے حاصل کیا۔تمہارا خدا سجیل نہیں اور نہ اس کی جیب میں کمی ہے۔اس کی جیب میں سارے دی ہے پڑے ہوئے ہیں اگر تم یقین اور ایمان کے ساتھ اس کی طرف بڑھو تو وہ معین الدین صاحب اپنی وال انعام اپنی جیب سے نکالے گا اور تمہاری جیب میں ڈال دے گا وہ محی الدین صاحب ابن عربی والا انعام اپنی جیب سے نکالے گا اور تمہاری جیب میں ڈال دے گا۔وہ ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی والا انعام نکالے گا اور تمہاری جیب میں ڈال دے گا یہ تحریک وقت زندگی کے سلسلہ میں حضور نے ۴ در اکتوبر ۱۹۵۵ء ( ۱۴ اخاء ۱۳۳۳ ) کو بھی ایک نهایت زور دار خطبہ ارشاد فرمایا۔یہ خطبہ مندرجہ ذیل الفاظ سے شروع ہوا در حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسّلام نے جو کام ہمارے سپرد کیا ہے یا یوں کہو کہ جو کام ملاقات نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمارے سپرد کیا ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کا تصور کر کے بھی دل کانپ جاتا ہے۔دنیا میں اس وقت دو ارب غیر مسلم پائے جاتے ہیں۔اور ہمارے سپرد یہ کام ہے کہ ان دو ارب غیر مسلموں کو مسلمان بنا دیں گذشتہ تیرہ سو سال میں صرف پچاس کروڑ مسلمان ہوئے "/ شه روزنامه الفضل ریوه ۲۲ اکتوبر شراء مت )