تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 101 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 101

۱۰۱ اور یہ صنعتی سرگرمیاں حضرت مصلح موعود کی خصوصی تو جہ ، شوق اور سر پرستی کی زمین مینت تھیں۔اس سلسلہ میں حضور کے دلی جذبات کیا تھے ؟ اس کا کسی قدر اندازه حضور کی مندر جہ ذیل تقریر سے بخوبی عیاں ہے حضور نے مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :- میں نہیں جانتا کہ دوسرے دوستوں کا کیا حال ہے۔لیکن میں تو جب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں۔میرے دل میں حرکت ہوتی ہے کہ کائش یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہوئی ہو اور اس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں۔اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں کاش یہ جہاز احمدیوں کے بنائے ہوئے ہوں۔اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں۔میں پچھلے دنوں کراچی گیا۔تو اپنے دوستوں سے کہا کاش کوئی دوست جہاز نہیں توکشتی بنا کہ ہی سمندر میں چلانے لگے۔اور میری یہ حسرت پوری کر دے۔اور۔میں اس میں بیٹھ کر کہ سکوں کہ آزاد سمندر میں یہ احمدیوں کی کشتی پھر رہی ہے۔دوستوں سے یکس نے یہ بھی کہا۔کاش کوئی درس گنہ کا ہی جزیرہ ہو جس میں احمدی ہی احمدی ہوں اور ہم کہہ سکیں کہ یہ احمدیوں کا ملک ہے کہ بڑے کاموں کی ابتدا پھوٹی ہی چیزوں سے ہوتی ہے۔یہ ہیں میرے ارادے۔اور یہ ہیں میری تمنائیں۔ان کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کام شروع کریں۔نگہ یہ کام ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ ان جذبات کی لہریں ہر ایک احمدی کے دل میں پیدا نہ ہوں اور اس کے لئے جس قربانی کی ضرورت ہے وہ نہ کی جائے۔دُنیا چونکہ صنعت و حرفت میں بہت ترقی کر چکی ہے اس لئے احمدی جو اشیاء آب بنائیں گے وہ شروع میں مہنگی پڑیں گی۔مگر باوجود اس کے جماعت کا فرض ہے کہ انہیں خرید ہے یہ ۱۹۴۷ء میں ملک کے بٹوارا کے بعد یہ کارخانے قادیان میں کہہ گئے۔لیکن اس کے۔کے ۱۱/۱۰/ را رپورٹ مجلس مشاورت منعقده ۱۰ ۱۱۱ ۱۲ ر ا پریل ۱۹۳۶ ۱۲۹ ۱۳۰