تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 102
١٠٢ با وجود قادیان اور مشرقی پنجاب کے احمدی صناعوں نے ہمت نہیں ہاری اور بدلے ہوئے حالات میں پاکستان میں پہنچ کر ملک و قوم اور جماعت کی خدمت کے لئے پھر سے اپنی صنعتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔جہاں تک جماعت کے نئے مرکز ربوہ کا تعلق ہے اس نئی بستی میں بھی ایک محدود پیمانے پر صنعت و حرفت کے کاموں کی داغ بیل ڈالی گئی۔مگر ان پر صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا کنٹرول تھا۔لیکن اس سال سیدنا حضرت مصلح موعود نے سفر یورپ سے واپسی کے بعد تخلص احمدی صناعوں کو تحریک فرمائی کہ وہ یہاں اپنے کارخانے جاری کرنے کے لئے صدر انجمن احمدیہ سے رابطہ قائم کریں انہیں مناسب سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔یہ تحریک حسب ذیل الفاظ میں تھی :- بسم الله الرحمن ! هوالت اصر ربوہ میں صنعتوں وغیرہ کے متعلق پہلے یہ طریق تھا کہ صدر انجمن احمد یہ کوشش کرتی تھی کہ ان کو اپنے ہاتھ میں رکھے۔لیکن اب اگر مخلص احمدی صنایع یہاں کوئی صنعت شروع کرنا چاہیں تو ان کو اس کی اجازت دی جائے گی بشرطیکہ وہ اپنی صنعت میں نیک آدمی بطور بیر لگائیں جو فسادی اور شرارتی نہ ہوں۔اس سلسلہ میں صدر انجمن احمد یہ مناسب سہولتیں بھی بہم پہنچائے گی۔مثلاً کارخانہ کی عمارت وغیرہ کے لئے زمین ربوہ کی قیمتوں کے لحاظ سے نسبتاً سستے داموں دے گی۔خواہش مند ا حباب جلد درخواستیں بھیجوائیں بلکہ مخلص احباب کا فرض ہے کہ وہ اس طرف فوری توجہ کریں تاکہ ربوہ کی آبادی کی صورت پیدا ہو خصوصا کپڑا بننے والے لوگ اور مستری جو لینتھوں ) LATHE ) وغیرہ کا کام کرتے ہیں جلد توجہ کریں یہ ثواب کا ثواب ہے اور فائدہ کا فائدہ۔قادیان میں جن لوگوں نے کارخانے جاری کئے تھے خدا تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بہت کچھ فائدہ اٹھایا تھا۔مرزا محمود احمد نے اصل تحریر شعبه تاریخ احمدیت " ربوہ میں محفوظ ہے ۶۱۹۵۵ - ۱۰ - 19