تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 99 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 99

٩٩ ہیں، میں اس کام کی رفتار دیکھ کر بہت خوش ہوا انہوں نے مجھ سے یہاں آنے کی وجہ دریافت فرمائی یا کوئی اور خدمت ہو تو میں نے عرض کی کہ میرا کچھ مقصد نہیں صرف سیر اور یہاں کے حالات کا جائزہ لینے مجھ سے بہتیرا دریافت کیا گیا میں کیا کام کرتا ہوں میں نے صرف اتنا جواب دیا مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتا ہوں۔پشاور رہتا ہوں اور ئیس بھلا میں کب پکڑائی دینے والا تھا۔یہاں ایک بات ضرور عرض کرنے کے قابل ہے سب لوگ کافر بڑے سے بڑا چھوٹے سے چھوٹا، امیر ہو یا غریب نماز پوری پابندی سے ادا کرتے تھے حقہ یا سگریٹ مجھے وہاں کوئی پیتا نظر نہیں آیا۔دفتر میں آکر بڑی خندہ پیشانی سے مجھے خود آکر مرزا عزیز احمد صاحب بھی ملے۔میں نے اجازت چاہی خادم حسین صاحب نے فرمایا کب تک ہمیں یہاں آپ کی خدمت کا وقت ملے گا میں نے جواب دیا میں صاحب ابھی چند منٹ کے بعد جانے والا ہوں میں واپس آرام گاہ پہنچا۔سامان درست کیا اور آدمیوں نے میرا سامان اٹھایا اور مجھے سرگودہا جانے والی بس پر سوار کر دیا۔میں خاموش ہیں کے اندر اور رات گاڑی پہ یہی سوچتا رہا یہ اچھے کا فر ہیں نماز کے پابند اچھے اخلاق F کے مالک اچھی طرح ایک نظام کے ماتحت خدمت خلق کا جذبہ موجود ہے۔الغرض شهداء میں برصغیر پاک و ہند کے احمدیوں نے اپنے اہل وطن کی ایسی مثالی رفاہی خدمات انجام دیں کہ ملکی پریس نے بلا امتیازہ مذہب و ملت وطن عزیزیہ کی اس خادم جماعت کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا۔خلاصہ نه اخبار تلندر پشاور ۲۶ نومبر ۹۵ او سجواله المفضل جلسه سالانه ۱۹۵۵ء مد۲۰۱